اسلام آباد:

چیئرمین پی پی پی اور وزیراعظم کی جانب سے بنائی گئی اعلیٰ سفارتی کمیٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن تب ہی ممکن ہے جب تمام متنازع مسائل کو سنجیدگی سے حل کیا جائے۔

وفاقی دارالحکومت میں دفتر خارجہ سے بریفنگ لینے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ خطے میں جاری کشیدگی دونوں ممالک کے عوام اور ترقی کے لیے خطرناک ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے پانی کے حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کرے گا۔

بلاول بھٹو نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو پانی کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک پرامن ریاست ہے جو مذاکرات اور امن کی راہ پر گامزن ہے، مگر اس کی کمزوری کو کوئی دشمن غلط نہ سمجھے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے دہشتگردی کے بہانے سے جارحانہ اقدامات کیے، حالانکہ خود پاکستان دہائیوں سے دہشتگردی کا شکار ہے اور سب سے زیادہ قربانیاں اسی نے دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی عوام بھی امن چاہتے ہیں لیکن ان کی قیادت نفرت اور انتشار کی سیاست کو ہوا دے رہی ہے۔

پی پی چیئرمین نے کہا کہ پہلگام واقعے کے بعد بھارتی حکومت نے ایک بار پھر جھوٹے بیانیے کے ذریعے پاکستان کے خلاف محاذ کھولا، مگر دنیا اب ان جھوٹوں سے بخوبی واقف ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دفتر خارجہ نے سفارتی کمیٹی کو موجودہ علاقائی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی ہے اور وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق کمیٹی عالمی سطح پر پاکستان کا نقطہ نظر پیش کرے گی تاکہ بین الاقوامی برادری کو بھارت کے رویے سے آگاہ کیا جا سکے۔

بلاول بھٹو نے غزہ کی ابتر صورتحال پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے خوراک اور ادویات کی ترسیل روکنے سے ہزاروں فلسطینی بچے موت کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔

انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل پر دباؤ بڑھائے تاکہ انسانی امداد کی فراہمی فوری طور پر بحال ہو اور معصوم جانوں کو بچایا جا سکے۔

پی پی پی چیئرمین نے خضدار میں اسکول بس پر ہونے والے خودکش حملے کو ریاست کے خلاف بزدلانہ کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ معصوم بچوں کو دہشتگردی کا نشانہ بنانا سفاکیت کی انتہا ہے اور اس قسم کے حملے پاکستانی قوم کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ خضدار حملے میں ملوث درندہ صفت عناصر جلد اپنے انجام تک پہنچیں گے۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ زخمی طلبہ کے بہترین علاج کو یقینی بنایا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بلاول بھٹو نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران

پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟

وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔

سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔

مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟

رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔

سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔

سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔

مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو