اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔21 مئی ۔2025 )سپریم کورٹ میں اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے ٹرانسفر کے حوالے سے درخواست کی سماعت ہوئی، جسٹس شاہد بلال حسن نے ریمارکس دیے کہ درخواست کے پیراگراف نمبر 4 میں کیا لکھا ہے؟ کیا کسی سیاسی لیڈر نے کبھی ایسی درخواست دائر کی؟جسٹس محمدعلی مظہرنے کہا کہ درخواست سے تو ہائیکورٹ ججز کو بھی شرمندہ کیا گیا.

(جاری ہے)

نجی ٹی وی کے مطابق جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان اور دیگر کی درخوستوں پر سماعت کی، عمران خان کے وکیل ادریس اشرف نے دلائل جاری رکھے دوران سماعت جسٹس شاہد بلال حسن نے ریمارکس دیے کہ میرا دل تو درخواست جرمانے کے ساتھ خارج کرنے کا ہے. جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ ماضی میں تبادلے کی میعاد تھی، 18 ویں ترمیم میں میعاد کو نکال دیا گیا ہے، اب تو جج تقرری کا اختیار جوڈیشل کمیشن کا ہے جسٹس شاہد بلال حسن نے وکیل ادریس اشرف کو درخواست کا پیراگراف نمبر 4 پڑھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے لکھا کیا ہے؟ کیا ملکی تاریخ میں کسی سیاسی لیڈر نے کبھی ایسی درخواست دائر کی؟.

عمران خان کے وکیل ادریس اشرف نے کہا کہ درخواست میں کہا گیا ہے دباﺅ قبول نہ کرنے پر ججز کو نشانہ بنایا گیا اور عمران خان کو ریلیف دینے پر ججز کو نشانہ بنایا گیا ہے جسٹس شاہد بلال حسن نے کہا کہ میرا دل تو اس درخواست کو جرمانے کے ساتھ خارج کرنے کا ہے تاہم اس طرف نہیں جارہا. جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اس قسم کی درخواست سے تو ہائیکورٹ کے ججز کو بھی شرمندہ کیا گیا ہے، ججز نے تو ایسا نہیں کہا، میرے متعلق یہ الفاظ استعمال ہوتے تو مجھے بھی شرمندگی ہوتی سابق وزیراعظم کے وکیل ادریس اشرف نے درخواست سے دستبردار ہوتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی درخواست میں سینئر وکیل شعیب شاہین ہیں، میں نے راجا مقسط کی جانب سے دائر درخواست لکھی ہے جس میں ایسے الفاظ نہیں لکھے گئے.

ادریس اشرف کے دلائل مکمل ہونے کے بعد وکیل کراچی بار ایسوسی ایشن فیصل صدیقی نے دلائل کا آغاز کیا جسٹس محمدعلی مظہر نے ریمارکس دیے کہ ٹرانسفر ہونے والے 2 ججز سنیارٹی لسٹ میں سب سے نیچے ہیں بینچ نے مزید سماعت جمعہ تک ملتوی کردی، کراچی بار کے وکیل فیصل صدیقی دلائل جاری رکھیں گے.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے جسٹس شاہد بلال حسن نے نے ریمارکس دیے کہ وکیل ادریس اشرف درخواست سے نے کہا کہ کے وکیل ججز کو گیا ہے

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری