بھارت کا ایک اور پاکستانی ہائی کمیشن کے اہلکار کو ناپسندیدہ قرار دے کر ملک چھوڑنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
نئی دہلی(نیوز ڈیسک)بھارت نے ایک اور پاکستانی ہائی کمیشن کے اہلکار کو ناپسندیدہ قرار دیتے ہوئے 24 گھنٹے میں ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا۔
بھارت نے ایک بار پھر پاکستان کے ساتھ سفارتی محاذ پر سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے پاکستانی ہائی کمیشن کے ایک اور اہلکار کو ناپسندیدہ قرار دے دیا۔
بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے پاکستانی ہائی کمیشن کے اہلکار کو 24 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق نئی دہلی میں تعینات پاکستانی ناظم الامور کو آج باضابطہ طور پر بھارتی وزارت خارجہ میں طلب کر کے احتجاجی مراسلہ تھمایا گیا۔
اس موقع پر بھارت نے اہلکار پر ”غیر سفارتی سرگرمیوں“ میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تاہم اس کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
پاکستانی ہائی کمیشن یا دفتر خارجہ کی جانب سے تاحال اس پیش رفت پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا تاہم سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے اس اقدام پر شدید تحفظات کا اظہار متوقع ہے۔
یاد رہے کہ حالیہ مہینوں میں بھارت کی جانب سے پاکستانی سفارتی عملے کے خلاف ایسے اقدامات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جسے ماہرین دونوں ممالک کے تعلقات میں بڑھتی کشیدگی کی علامت قرار دے رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں:عمران خان کا 9 مئی کے مقدمات میں شامل تفتیش ہونے ، پولی گرافک ٹیسٹ کرانے سے پھر انکار
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: پاکستانی ہائی کمیشن کے کی جانب سے اہلکار کو
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔