وزارت خزانہ نے ترقیاتی منصوبوں کیلئے بجٹ میں 1000 ارب روپے کی حد مقرر کی ہے، احسن اقبال
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
اسلام آباد:
وفاقی وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ وزارت خزانہ نے بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے 1000 ارب روپے کی حد مقرر کردی ہے جبکہ وزارتوں اور ڈویژنز کی طلب 3000 ارب روپے ہے۔
اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال نے مالی سال 26-2025 کے لیے وزارت خزانہ کی جانب سے وفاقی وزارتوں اور ڈویژنوں کو دی گئی 1000 ارب روپے کے پی ایس ڈی پی بجٹ کی حد کے تحت بجٹ تجاویز کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس کی صدارت کی۔
احسن اقبال نے اجلاس کے دوران آئندہ سال کے لیے ترقیاتی بجٹ میں کمی کے تناظر میں بجٹ مختص کرنے میں مؤثر ترجیحات اپنانے کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے ہدایت کی کہ وزارتیں ان منصوبوں پر توجہ مرکوز کریں جو نہایت اہم اور تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔
احسن اقبال نے کہا کہ وزارت خزانہ کی جانب سے پی ایس ڈی پی کے لیے 1000 ارب روپے کی حد کو مدِنظر رکھتے ہوئے منصوبہ بندی ضروری ہے جبکہ وفاقی وزارتوں کی مانگ 3000 ارب روپے اور وزارتِ منصوبہ بندی کی کم از کم مانگ 1600 ارب روپے ہے۔
وزیرمنصوبہ بندی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وزارتیں موجودہ مالی سال میں جاری فنڈز کا مکمل استعمال یقینی بنائیں تاکہ منصوبے تیزی سے مکمل ہو سکیں۔
انہوں نے کہا کہ نئے منصوبوں کو قومی ترقیاتی ایجنڈا "اُڑان پاکستان” کے مطابق ان کی اہمیت کی بنیاد پر ترجیح دی جائے، جب ترقیاتی بجٹ سکڑ رہا ہو تو مؤثر ترجیحات اور ہر پائی کا درست استعمال انتہائی ضروری ہو جاتا ہے۔
اجلاس کے دوران احسن اقبال نے ملک کو درپیش موجودہ چیلنجز پر روشنی ڈالی، خصوصاً پانی کی قلت کو فوری حل طلب مسئلہ قرار دیا اور انہوں نے دیامر بھاشا ڈیم منصوبے کی بروقت تکمیل کو پاکستان کے آبی تحفظ، معاشی ترقی اور توانائی کے تحفظ کے لیے نہایت اہم قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ نہ صرف پاکستان کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں خاطر خواہ اضافہ کرے گا بلکہ سیلاب کے خطرات کو کم کرے گا اور زراعت و گھریلو ضروریات کے لیے پانی کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنائے گا۔
وفاقی وزیر نے واٹر ریسورسز ڈویژن کے حکام کو ہدایت کی کہ دیامر بھاشا ڈیم کی جلد از جلد تکمیل کو اپنی ترجیح بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ اس کی تعمیر پاکستان کی طویل مدتی ترقی اور پائیداری میں ایک انقلابی کردار ادا کرے گی کیونکہ یہ منصوبہ 4,500 میگاواٹ بجلی پیدا کرے گا۔
احسن اقبال نے تمام وزارتوں کو ہدایت کی کہ وہ اہم اور نازک منصوبوں کی فہرست تیار کریں جو ترقیاتی بجٹ میں کمی کی وجہ سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: احسن اقبال نے نے کہا کہ کہ وزارت ارب روپے انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.