بنگلور کے فریڈم پارک میں فلسطین سے یکجہتی کیلئے احتجاجی مظاہرہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
مولانا آصف خان مدنی نے کہا کہ ایران کے جوابی حملوں نے اسرائیل کی مشہور دفاعی ڈھال آئرن ڈوم کو ناکارہ بنا دیا اور تل ابیب سمیت کئی شہر تباہ ہوگئے۔ اسلام ٹائمز۔ بنگلور کے فریڈم پارک میں آج ایک احتجاجی مظاہرہ منعقد ہوا، جس میں سینکڑوں شہریوں نے فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی کیا۔ یہ احتجاج بائیں بازو کی کئی سماجی و سیاسی تنظیموں کی جانب سے منعقد کیا گیا تھا، جس میں "دریا سے سمندر تک، فلسطین آزاد ہوگا" جیسے نعروں کی گونج سنائی دی۔ اس مظاہرے میں طلباء، نوجوانوں، مزدوروں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ یہ مظاہرہ غزہ پر اسرائیل کے جاری فضائی حملوں اور بڑے پیمانے پر عام شہریوں کی ہلاکت کے خلاف عالمی ردعمل کا حصہ تھا۔ مظاہرین نے فلسطینی پرچم لہرائے، پلے کارڈز اٹھائے اور فوری طور پر جنگ بندی اور عالمی خاموشی ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرے میں شریک ایک احتجاجی کارکن، ارترکا نے اسرائیلی حکومت اور اس کے مغربی حامیوں پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ صرف نیتن یاہو نہیں، بلکہ پوری اسرائیلی ریاست جنگی جرائم کی مرتکب ہوئی ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی قوانین اور جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی کی، اسکولوں اور اسپتالوں پر بمباری کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی اسرائیل کے خلاف جوابی کارروائی نے اسرائیل اور امریکہ کی ناقابل شکست ہونے کی جو افواہ تھی، اسے غلط ثابت کر دیا ہے۔ انہون نے کہا کہ دنیا بھر کے لوگوں کو متحد ہو کر امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کے خلاف آواز اٹھانی چاہیئے۔ نوجوان کارکن ہنومیش نے کہا کہ فلسطین، غزہ، یوکرین اور دیگر علاقوں میں جاری مظالم کا حل صرف عوامی اتحاد سے ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر طبقے کے لوگ ان سامراجی قوتوں کے خلاف متحد ہو کر امن کے لئے کام کریں۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ امریکہ میں بھی عام لوگ اپنی حکومت کی جنگی پالیسیوں کے خلاف سڑکوں پر نکلے۔ ایک اور احتجاجی اشفاق نے اسرائیلی حملوں کو "جنگ نہیں بلکہ نسل کشی" قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ عام شہریوں کو بھوکا رکھنا، خوراک اور ادویات بند کرنا اور پناہ گاہوں پر بمباری کرنا انسانیت پر حملہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ہم آج آواز نہیں اٹھائیں گے تو کل یہی حالات ہمارے لئے بھی ہو سکتے ہیں۔ مولانا آصف خان مدنی نے فلسطین اور ایران پر اسرائیلی حملوں کو "انسانیت کے خلاف دہشت گردی" قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے جوابی حملوں نے اسرائیل کی مشہور دفاعی ڈھال آئرن ڈوم کو ناکارہ بنا دیا اور تل ابیب سمیت کئی شہر تباہ ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال نے امریکہ کو جنگ بندی کے مطالبے پر مجبور کر دیا۔ مظاہرے کے اختتام پر مظاہرین نے حکومتِ ہند سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل سے سفارتی اور دیگر تمام تعلقات ختم کرے اور معصوم فلسطینیوں کی نسل کشی بند کرانے کے لئے مضبوط مؤقف اختیار کرے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ نے اسرائیل کے خلاف
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی