امن سے محبت کرتے ہیں، ہمیشہ تیار، جنگ چاہئے تو پھر جنگ ہی سہی: ڈی جی آئی ایس پی آر
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
راولپنڈی (نوائے وقت رپورٹ) ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ بھارت نے جارحیت کرتے ہوئے نور خان ایئربیس سمیت دیگر چند مقامات کو نشانہ بنایا لیکن پاکستان کی فضائی صلاحیت مکمل طور پر بحال اور فعال ہے۔ پاکستان بھارت جنگ کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے نیویارک ٹائمز سے گفتگو کی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے نیویارک ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان امن کا داعی ہے، پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کی حیثیت سے خطے میں امن کا داعی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دونوں ممالک کے اعلیٰ عسکری افسروں کے درمیان رابطہ موجود ہے اور ایک مؤثر مکینزم فعال ہے۔ نور خان ایئربیس سمیت چند مقامات کو نشانہ بنایا گیا لیکن پاکستان کی فضائی صلاحیت مکمل طور پر بحال اور فعال ہے۔ پاکستان نے اپنے جانی و مالی نقصانات کے بارے میں شفافیت دکھائی، مگر کیا بھارت بھی اتنی دیانتداری کا مظاہرہ کر رہا ہے؟۔ پاکستان نے سیز فائر کا احترام کر کے ذمہ داری دکھائی، مگر بھارت کی اشتعال انگیزی بدستور جاری ہے۔ ہم امن کو ترجیح دیتے ہیں اور امن سے محبت کرتے ہیں، ہم ہمیشہ جنگ کے لیے تیار رہتے ہیں اور اگر جنگ چاہیے تو پھر جنگ ہی سہی۔ برطانوی نشریاتی ادارے کوانٹرویو میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی جنگ محض بیوقوفی ہوگی۔ ایٹمی جنگ دونوں ممالک کے لیے باہمی تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔ ایٹمی جنگ ناقابل تصور اور نامعقول خیال ہونا چاہیے۔ پاکستان امن کا خواہاں ہے، اگر جنگ مسلط کی جاتی ہے تو پاکستان ہر وقت اس کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اپنے بیانیے کی وجہ سے آگ سے کھیل رہا ہے، بھارت ہر چند سال بعد ایک جھوٹا بیانیہ گھڑتا ہے، دنیا بھی اب جان چکی ہے بھارت کا پہلے دن سے مؤقف بے بنیاد تھا۔ حالیہ دنوں کے حالات میں پاکستان نے بہت بالغ نظری سے ردعمل دیا، پاکستان نے کشیدگی کو بڑھنے سے روکا۔ شدت پسندی کے واقعے میں پاکستان کے ملوث ہونے کے ثبوت ہیں تو ہمیں دیے جائیں، ہم خود کارروائی کریں گے۔ ہم امن کو ترجیح دیتے ہیں، امن سے محبت کرتے ہیں، ہم اس وقت پاکستان میں امن کا جشن منا رہے ہیں، ہم ہمیشہ جنگ کے لیے تیار رہتے ہیں اور اگر جنگ چاہیے تو پھر جنگ ہی سہی۔ اصل تنازعہ اپنی جگہ موجود ہے اور اس میں چنگاری کسی بھی وقت ڈالی جاسکتی ہے۔ آپ حالات کو دیکھیں، 10 مئی کے بعد کتنے دن گزر چکے ہیں مگر بھارت میں جو بیانیہ چلایا جا رہا ہے وہ اب بھی جاری ہے۔ بھارت جس طرح بات کر رہا ہے وہ اپنی داخلی سیاست کو بہتر کرنے کی کوشش لگتی ہے۔ کیا آپ کو بھارت میں کسی ذمہ دار سیاسی قیادت کی جھلک دکھائی دیتی ہے؟۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کی حکومت میں کوئی بھی پہلگام واقعے سے متعلق سخت سوالات نہیں کر رہا، بھارتی حکومت میں کوئی یہ نہیں پوچھ رہا کہ اتنا بڑا سکیورٹی لیپس آخر کیسے ہوا؟۔ بھارت میں کسی کو ان واقعات کے پیچھے موجود وجوہات کو سمجھنے میں دلچسپی نہیں۔ بھارت ان آوازوں کو سننے کو تیار نہیں جو ظلم و زیادتی کی بات کر رہی ہیں۔ 9 اور 10 مئی کی درمیانی رات پاکستان نے بھارت کو نپا تلا، مربوط اور متناسب جواب دیا۔ یہ ایک محدود سطح پر ہماری روایتی فوجی طاقت کا استعمال تھا اور ہماری تکنیکی صلاحیت کا ایک چھوٹا لیکن نہایت مؤثر مظاہرہ تھا۔ اس کے بعد آپ نے دیکھا کہ بھارت نے پیچھے ہٹنا شروع کیا۔ اچانک بھارت بات چیت اور کشیدگی کم کرنے کی خواہش کا اظہار کرنے لگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ڈی جی ا ئی ایس پی ا ر پاکستان نے کہ بھارت کے لیے رہا ہے امن کا
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔