فیصل واوڈا نے عظمی بخاری کو چائنہ کی سستی ماسی اور نوکرانی قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
فیصل واوڈا نے عظمی بخاری کو چائنہ کی سستی ماسی اور نوکرانی قرار دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق سینیٹر فیصل واوڈا اور وزیر اطلاعات پنجاب عظمٰی بخاری کے درمیان لفظی جنگ شدت اختیار کر گئی ہے۔ سینیٹر فیصل واوڈا کی جانب سے وزیر اطلاعات پنجاب کو انتہائی سخت الفاظ میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔اپنے بیان میں فیصل واوڈا نے کہا کہ عظمیٰ بخاری کا شکرگزار ہوں کہ اس نے مجھے شاہ رخ خان سے تشبییہ دی، میں کم از کم چائنہ کی سی گریڈ ماسیوں کی کاپی تو نہیں ہوں۔ میں نینوکروں سے کبھی زندگی میں بات نہیں کی ہے، یہی عظمیٰ بخاری نوازشریف کو را کا ایجنٹ، مودی کا یار کہتی تھیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز عظمٰی بخاری نے فیصل واوڈا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ذہنی مریض اور پاگل شخص قرار دیا اور کہا کہ یہ سستا شاہ رخ خان بن کر پھرتا ہے، کون ہے فیصل واوڈا؟ ایسے ذہنی مریضوں کی حالت پر ترس کھاتے ہیں اور ان کیلئے اللہ پاک سے رحم کی دعا مانگتے ہیں ان کے سوالوں کا جواب نہیں دیتے۔جبکہ اس سے قبل سینیٹر فیصل واوڈا کی جانب سے ردعمل دیا گیا۔میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے فیصلہ واوڈا نے کہا کہ یہ لوگ جاہل ہیں، ان میں سیاسی شعور نہیں ہے، یہ لوگ پڑھے لکھے نہیں ہیں، نواز شریف جس عمر میں پہنچ چکے ہیں انہیں مزید شرمندہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت پاکستان میں 2 ہی لیڈرز ہیں، پہلے عمران خان تھے اور اب بلاول بھٹو نظر آتے ہیں، نواز شریف جس عمر میں پہنچ چکے ہیں انہیں مزید شرمندہ نہ کیا جائے۔ عمران خان، نواز شریف، آصف زرداری سب محب وطن ہیں، پاک بھارت کشیدگی کے دوران تحریک انصاف کا بطور اپوزیشن کردار مثالی رہا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: فیصل واوڈا واوڈا نے کہا کہ
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔