بھارت کی فوجی تنصیبات پر حملے کرنے چاہئیں، اگلی جارحیت کا انتظار نہیں کر سکتے، خرم دستگیر
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر نے کہا ہے کہ خضدارواقعہ ناقابل برداشت ہے،بچوں کاخون رائیگاں نہیں جائےگا، بھارت شکست کابدلہ ہماری مغربی سرحدسےلینےکی کوشش کررہاہے، بھارت یہ کام پہلےبھی کررہاتھا، بھارت کالعدم ٹی ٹی پی کو بھی سپورٹ کررہاہے۔
نجی نیوز چینل کے پروگرام میں کہا ہے کہ خرم دستگیر کا کہناتھا کہ ہمیں بھارت کی فوجی تنصیبات پر حملے کرنے چاہئیں، ہم بیٹھ کر بھارت کی اگلی جارحیت کا انتظار نہیں کر سکتے، ہم دنیا میں بھارت کو بے نقاب کرنے جا رہے ہیں، افغان حکومت کہتی ہے دہشتگرد اُن کی زمین پر ہیں لیکن اُن کا کنٹرول نہیں، افغانستان کی حکومت کی طرف سے سنجیدگی نظر نہیں آئی، اسحاق ڈار نے کہا تھا سنجیدگی نظرآرہی ہے،اللہ کرے سنجیدگی ہو، پاکستان اور افغانستان کا تعلق دوستانہ نہیں ہے ۔
والد کی سرزنش کا مقصد عزت نفس اور خودداری کی آبیاری کرنا تھا، اْن کا کہنا تھاکہ دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانے کی بجائے بھوکوں مر جانا بہتر ہے
سلمان اکرم راجہ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خضدار واقعہ اندوہناک ہے،بچوں پر حملہ قبول نہیں ہے ، ہمیں تعمیری طریقے سے دہشتگردی کے مسئلے کا حل ڈھونڈنا ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ معرکہ حق میں آرمی چیف کا جو کردار ہے،ان کیلئے فیلڈ مارشل کا اعزاز حق بجانب ہے۔انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نےکہا ملک میں مصنوعی نظام ہے، پارٹی چیئرمین بیرسٹرگوہر کا بیان نہیں دیکھا، جوبانی پی ٹی آئی کامؤقف ہے وہی ہماری پارٹی کا مؤقف ہے، جھوٹ پرمبنی نظام قائم ہے،کابینہ کوئی فیصلہ کرتی ہےتوتوثیق نہیں کریں گے، بانی پی ٹی آئی نےکہا مفاہمت ہونا ملک کی ضرورت ہے۔
میٹنگ ختم ہوئی، ایک فقرے نے دماغ گھما کر رکھ دیا، دل میں سوچ چکا تھا کہ کبھی میرے ساتھ اونچ نیچ کی تو منہ توڑ جواب دونگا، چائے پیئے بغیر باہر آ یا
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔