واشنگٹن:

امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارتی حکومت کی نسل پرستانہ بیان بازی میں خطرناک حد تک اضافہ کا سنجیدگی سے نوٹس لے۔

سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ نے کیلیفورنیا میں ورلڈ افیئرز کونسل کے زیر اہتمام ایک اجلاس سے خطاب میں بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ انتہاپسند ہندوتوا نظریہ اور آر ایس ایس کے اثر و رسوخ سے چلنے والی تسلط پسند بھارتی حکومت کی نسل پرستانہ بیان بازی میں خطرناک حد تک اضافہ کا سنجیدگی سے نوٹس لے، اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز اقدامات علاقائی امن و استحکام اور سلامتی کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔

رضوان سعید شیخ نے کہا کہ پاکستان کا معاشی استحکام اور ترقی ایک مستحکم اور محفوظ علاقائی ماحول سے جڑی  ہے، پاکستان نے بھارتی جارحیت کو موثر طریقے سے پسپا کرکے اپنے غیر متزلزل عزم، طاقت اور صلاحیت کا مظاہرہ کیا، بھارت نے مستقبل میں بھی کوئی مہم جوئی کی تو پاکستان اپنی سالمیت کا بھرپور دفاع کریگا۔

رضوان سعید شیخ نے بین الاقوامی معاہدوں اور قانونی فریم ورک کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا خاص طور پر بین الاقوامی آبی وسائل کے حوالے سے جو قومی سلامتی اور خطے کے کروڑوں لوگوں کی پائیدار ترقی سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔

پاکستانی سفیر نے خطے میں حالیہ جنگ بندی  کے حوالے سے امریکہ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان وسیع تر اور کثیر الجہتی شراکت داری بشمول انسداد دہشت گردی کے خلاف دو طرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے امن کے فروغ  اور جموں و کشمیر کے تنازعہ کے پائیدار حل سمیت علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے امریکہ کی مسلسل مصروفیت کا بھی خیرمقدم کیا۔

قبل ازیں رضوان سعید شیخ نے کیلی فورنیا میں لاس اینجلس ورلڈ افیئر کونسل کے وفد سے ملاقات کی جس کی قیادت بورڈ کی چیئر پرسن ماریا کونٹریاس سویٹ اور بورڈ کے سینئر ممبران کررہے تھے۔

ملاقات کے موقع پر لاس اینجلس میں پاکستان کے قونصل جنرل عاصم علی خان بھی  موجود تھے۔ دونوں فریقوں نے معاشی ترقی، توانائی کی منتقلی، آبی تحفظ، آبادیاتی رجحانات، خواتین کو بااختیار بنانے اور پاکستان کی تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی، کان کنی اور توانائی کے شعبوں میں پیشرفت سمیت عالمی اور علاقائی معاملات پر بات چیت کی۔

وفد نے پاکستان میں  جاری اقتصادی اصلاحات کی تعریف کی اور پاکستانی معیشت کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا جس کا مقصد جامع اور پائیدار ترقی اور دو طرفہ اقتصادی تعاون کو فروغ دینا ہے۔

سفیر پاکستان رضوان سعید  شیخ نے وفد کو جنوبی ایشیا کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی جس میں انہوں نے آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے دیرپا امن اور علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ  خطے میں طویل مدتی امن کے لیے  جموں و کشمیر تنازعہ کا منصفانہ، پرامن اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: رضوان سعید شیخ نے

پڑھیں:

امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان

نیویارک(نیوز ڈیسک)امریکہ نے “جبری مشقت سے متعلق خدشات کے پیش نظر” پاکستان، بھارت، چین اور یورپی یونین سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے مطابق ان برآمدی محصولات (ٹیرف) کی شرح 10 فیصد سے لے کر 12.5 فیصد تک ہوگی اور یہ جمعہ یعنی آج سے نافذ العمل ہوں گے۔

Today, Ambassador Greer is taking action, at President Trump’s direction, under Section 301 of the Trade Act of 1974 by imposing tariffs on 60 trading partners for their failure to adopt and effectively enforce a prohibition on the importation of goods produced with forced labor.…

— United States Trade Representative (@USTradeRep) July 23, 2026

انہوں نے کہا کہ امریکہ میں جبری مشقت کے خلاف قوانین طویل عرصے سے نافذ ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دیگر ممالک بھی اسی طرز کے اقدامات کریں۔

یہ نئے محصولات اس عالمی ڈیوٹی کی جگہ لیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال کے آغاز میں عائد کی گئی تھی اور جس کی مدت اب ختم ہو رہی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے فروری میں بعض ٹیرف مسترد کیے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے متبادل قانونی راستوں کے ذریعے نئے اقدامات متعارف کروائے ہیں۔

امریکہ کے تجارتی نمائندوں کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا اور ملائیشیا سمیت کئی ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ڈیوٹی لاگو ہوگی۔

یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے لیے ٹیرف کی مجموعی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان رکھی گئی ہے۔

دوسری جانب متاثرہ ممالک نے ان اقدامات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا نے ان ٹیرف کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آزاد تجارتی معاہدوں کے منافی ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق اسٹیل اور ایلومینیم جیسے شعبہ جاتی ٹیرف پہلے سے نافذ ہیں اور ان پر نئے اقدامات کا اطلاق نہیں ہوگا، جبکہ توانائی اور کھاد سمیت بعض اشیا کو استثنا دیا گیا ہے۔

اسلام آباد نے بھی جبری مشقت سے متعلق تحقیقات پر امریکی حکام کو تفصیلی جوابات جمع کرائے ہیں، بلکہ حالیہ تجارتی مذاکرات سے ایک روز قبل بھی مزید وضاحتیں فراہم کی تھیں۔

مزید پڑھیں۔ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے

متعلقہ مضامین

  • ایس سی او اجلاس کے موقع پر پاک چین وزرائے خارجہ کی ملاقات، علاقائی امن اور تعاون پر تبادلۂ خیال
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ