رہنما تحریک انصاف اسد قیصر کی سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
رہنما تحریک انصاف اسد قیصر کی سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی سے ملاقات WhatsAppFacebookTwitter 0 3 July, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)تحریک انصاف کے رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی سے سعودی سفارت خانے میں ملاقات کی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ملاقات میں دو طرفہ تعلقات، خطے کی مجموعی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔سابق اسپیکر اسد قیصر نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب کے ساتھ اپنے دیرینہ برادرانہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ان تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کا خواہاں ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں برادر ممالک مذہب، اخوت اور تاریخ کے لازوال رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں، سابق اسپیکر نے حجاج کرام کے لیے سعودی حکومت کی جانب سے کیے گئے بہترین انتظامات پر خراج تحسین پیش کیا۔
انہوں نے خادم الحرمین الشریفین کے لیے نیک تمناوں کا اظہار کرتے ہوئے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے وژن 2030 اور قیادت کو سراہا، انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی تیز رفتار ترقی شہزادہ محمد بن سلمان کی موثر قیادت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایئر چیف مارشل کا اسپیکر قومی اسمبلی کو اظہارِ تشکر کا خط، پارلیمانی کردار کی تعریف ایئر چیف مارشل کا اسپیکر قومی اسمبلی کو اظہارِ تشکر کا خط، پارلیمانی کردار کی تعریف پنجاب اسمبلی ہنگامہ آرائی کیس ،سنی اتحاد کونسل کے 26ارکان کیخلاف نااہلی ریفرنس دائر امپورٹڈ گاڑیوں، کاسمیٹکس سمیت 6980اشیا پر ریگولیٹری ڈیوٹی اور ٹیکسز میں کمی ایسا لگتا ہے فوجداری نظام انصاف طاقتور اور بااثر افراد کے ہاتھوں استحصال کا شکار ہوجاتا ہے، سپریم کورٹ باجوڑ دھماکےسے متعلق سی ٹی ڈی کی ابتدائی رپورٹ تیار،7مبینہ دہشت گردوں کی نشادہی ہوگئی جی ایچ کیو حملہ اور سانحہ 9 مئی کے مقدمات کی سماعت آج پھر ملتویCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔