حکومت کا مفت اورمعیاری تعلیم کی فراہمی کیلیے اقدامات قابل تحسین ہے
اشاعت کی تاریخ: 6th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
میرپورخاص(نمائندہ جسارت) حکومت سندھ کی جانب سے مفت اور معیاری تعلیم کی فراہمی کا اقدام، بالخصوص سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی کاوشوں کے ذریعے قابل تحسین ہے، پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے ماڈل کے تحت دیہی اور دور دراز علاقوں میں تعلیمی سہولیات کی فراہمی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے مقامی ہال میں منعقد ہونے والی ریجنل پارٹنرز کانفرنس کے مقررین نے سیف کے تحت چلنے والے اسکولز کو کامیاب ماڈل قرار دیتے ہوئے کہا کہ صرف میرپورخاص ریجن میں 353 اسکولز ایسے علاقوں میں تعلیم فراہم کر رہے ہیں جہاں تعلیمی مواقع محدود تھے اور ان اسکولوں میں اس وقت ایک لاکھ 13 ہزار سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں کانفرنس میں تھرپارکر، عمرکوٹ اور میرپورخاص اضلاع سے 150 سے زائد اسکول پارٹنرز نے شرکت کی کانفرنس کا مقصد باہمی تعاون کو مضبوط بنانا اور سیف کی جاری کوششوں کے مثبت اثرات کو اجاگر کرنا تھا کمشنر فیصل احمد عقیلی نے سیف اسکول پارٹنرز کی محنت کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس خطے کا نمائندہ ہونے کے ناطے میں نے کئی سیف اسکولز کا دورہ کیا ہے اور عملی طور پر ان کی لگن دیکھی ہے حکومت سندھ تعلیم کے شعبے میں مثالی کام کر رہی ہے اور سیف کو ایک بہترین اور باصلاحیت سربراہ میسر ہے ایڈیشنل کمشنر سید ابرار علی شاہ نے بھی سیف ماڈل کو سراہتے ہوئے کہا کہ میں مختلف صوبوں میں خدمات انجام دے چکا ہوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔