معرکہ حق: پاکستان کیخلاف جارحیت پر بھارتی نوجوان مودی پر برس پڑے
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
پاکستان کے خلاف بھارت کی کھلی جارحیت اورپاکستانی مسلح افواج کے منہ توڑ جواب پر بھارتی نوجوان سیخ پا ہیں اور انہوں نے مودی سرکار کے پاکستان پر حملے کے فیصلے کو غیر منطقی اور غیر ضروری قرار دے دیا ہے۔
جب ایک بھارتی نوجوان لڑکی سے پاکستان پر حملے کے بارے میں سوال کیا گیا تو اس کا کہنا تھا کہ ’کیا ہم نے آپ کو کہا تھا یا ہم نے یہ مانگا تھا کہ پاکستان پر حملہ کردو‘
بھارتی لڑکی نے کہا کہ کیا پاکستان پر حملہ کرنے سے بہت ترقی کرلی ہے آپ نے؟ ہمیں چاہیے اچھی یونیورسٹی، ہمیں چاہئے اچھے ہسپتال اور ہم نوجوانوں کو روزگار چاہئے، آپ کسانوں کے گھروں کے قریب منڈیاں قائم کریں تاکہ کسان ادھر ادھر نہ بھٹکے۔
بھارتی لڑکی نے کہا کہ آپ ہمارے کسانوں سے سستا مال لیکر بڑے بڑے مالز میں مہنگا کرکے بیچتے ہیں، ہمارا سارا پیسہ آپ کی جیب میں جاتا ہے مندر تک آپ نے اپنے لئے بنائے ہیں ہمارے لئے نہیں، مندر میں جو چڑھاؤا چڑھے گا اس پیسے سے آپ کے چناؤ پر خرچہ ہوگا۔
بھارتی لڑکی نے کہا کہ ہمییں مندر نہیں اچھی تعلیم چاہئے تاکہ نوجوان پڑھے اور دیش کی ترقی ہو، ہم گوبر کھانے موتر کھانے والے لوگ نہیں ہیں، ہمارے کسان جو اگائیں گے ہم وہی کھائیں گے۔
بھارتی لڑکی نے کہا کہ ہم ایسے نہیں ہیں جس تھالی میں کھائیں اس میں تھوکیں اور اسے میں چھید کردیں ان کی طرح۔
سیاسی تجزیہ کار نے کہا کہ بھارتی نوجوان نسل کے خیالات بتاتے ہیں کہ وہ مودی کے ہندوتوا نظریے کے خلاف ہیں، بھارتی لڑکی نے جو باتیں کی ہیں اس سے مودی اور اس کی انتہا پسند جماعت کی آنکھیں کھل جانی چاہئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بھارتی نوجوان پاکستان پر
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔