کھلاڑیوں کا ٹیم میں انتخاب انکے تجربے یا شہرت کی بنیاد پر نہیں کیا جائے گا، مائیک ہیسن
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
پاکستان کرکٹ ٹیم کے نئے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے قومی مینز ٹیم میں کھلاڑیوں کی شمولیت سے متعلق اپنی رائے کا اظہار کردیا۔
مائیک ہیسن نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا کہ کھلاڑیوں کا ٹیم میں انتخاب ان کے تجربے یا شہرت کی بنیاد پر نہیں کیا جائے گا۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ ٹیم میں کھلاڑیوں کا انتخاب واضح طور پر بیان کردہ کرداروں پر منحصر ہوگا اور ہر ایک کو ٹیم کے پلان کے مطابق کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ نے کہا کہ میرا مقصد ایک جدید اور کامیابیاں حاصل کرنے والی ٹیم بنانا ہے جو دلچسپ کرکٹ کھیلے۔
اُنہوں نے کہا کہ یہ سنہری موقع ہے، میں اپنا کردار ادا کرنے کےلیے پُرجوش ہوں اور مجھے یقین ہے کہ میں ٹیم کی رہنمائی کر سکتا ہوں۔
مائیک ہیسن نے کہا کہ ہم کامیاب کرکٹ کھیلنا چاہتے ہیں جو شائقین کے دل بھی جیت لے لیکن میں جانتا ہوں کہ یہ ایک بڑا چیلنج ہے۔
واضح رہے کہ بنگلادیش کے خلاف آئندہ 3 ٹی 20 میچز کی سیریز کےلیے اسکواڈ میں بابر اعظم، محمد رضوان اور شاہین آفریدی جیسے بڑے ناموں کو شامل نہیں کیا گیا۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مائیک ہیسن ٹیم میں کہا کہ
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔