کراچی سے فتنہ الخوارج کے 3انتہائی مطلوب دہشتگرد گرفتار، دھماکا خیز مواد بھی برآمد
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
کراچی:
سندھ رینجرز اور سی ٹی ڈی پولیس نے کورنگی مہران ٹاؤن میں مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 3 انتہائی مطلوب دہشت گرد کو گرفتار کر کے ان کے قبضے سے اسلحہ و ایمونیشن اور دھماکا خیز مواد بھی بر آمد کر لیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق سندھ رینجرز اور سی ٹی ڈی پولیس نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کورنگی مہران ٹاؤن میں مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 3 انتہائی مطلوب دہشت گرد نعمت اللہ عرف عابد، محمد نورعرف مانی اور صابر اللہ عرف دانیال کو گرفتار کرلیا۔ ملزمان کے قبضے سے اسلحہ و ایمونیشن اور دھماکا خیز مواد بھی بر آمد کر لیا گیا۔
ترجمان نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزمان کا تعلق فتنہ الخوارج کمانڈر رومان رئیس اور اسلام دین گروپ سے ہے۔ ملزمان عسکری تربیت یافتہ ہیں، گرفتار ملزمان کو فتنہ الخوارج کے کمانڈر رومان رئیس اور اسلام الدین نے بھتہ وصولی، ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے کراچی بھیجا تھا تاکہ سیکیورٹی فورسز کو ٹارگٹ کیا جا سکے۔
دوران تفتیش ملزم نعمت اللہ نے اعتراف کیا ہے کہ وہ فتنہ الخوارج کا انتہائی سرگرم رکن ہے۔ ملزم 2018 میں فتنہ الخوارج مفتی نور ولی گروپ میں شامل ہوا۔ ملزم نے افغانستان کے شہر برمل سے عسکری تربیت حاصل کی اور وزیر ستان میں متعدد عسکری کارروائیوں میں ملوث رہا ہے۔
ملزم نے مزید انکشاف کیا کہ وہ 2019 میں وانا وزیرستان سے دہشت گردی کی کارروائی کے دوران گرفتار ہو کر جیل جا چکا ہے۔ رہائی کے بعد دوبارہ سرگرم ہوا اور 2021 میں دوبارہ کے پی میں گرفتار ہوا اور کچھ عرصہ جیل میں رہنے کے بعد رہا ہوا اور دوبارہ فتنہ الخوارج کمانڈر اسلام الدین کے گروپ میں شامل ہوا اور دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ کراچی پہنچا تھا۔
ملزم نور محمد نے انکشاف کیا ہے کہ وہ 2022 میں فتنہ الخوارج اسلام الدین کے گروپ میں شامل ہوا۔ ملزم کمانڈر رومان رائیس اور اسلام الدین کے حکم پر اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ کراچی میں بھتہ وصولی، ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ ملزم نے اکثر اہم مقامات کی ریکی کرکے کمانڈر اسلام الدین کو بھیج چکا تھا اور کمانڈر اسلام الدین ملزمان کو رقم بھی بھجوا چکا ہے۔ ملزم کمانڈر اسلام الدین کے براہ راست رابطے میں تھا اور اسلام الدین کی ہدایت پر کراچی میں دہشت گردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔
ملزم صابر اللہ نے انکشاف کیا ہے کہ وہ 2018 میں فتنہ الخوارج مفتی نو رولی گروپ میں شامل ہوا تھا اور سوشل میڈیا پر فتنہ الخوارج کی کارروائیوں کی ویڈیو اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کرتا رہا۔ گرفتار ملزم 2024 میں فتنہ الخوارج کے کمانڈر اسلام الدین کے کہنے پر اس کے گروپ میں شامل ہوا اور ملزم اسلام الدین کی ہدایت پر دیگر ساتھیوں کے ہمراہ کراچی میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے کراچی پہنچا تھا تو ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔
ملزم کمانڈر اسلام الدین کے براہ راست رابطے میں تھا اور اس کی ہدایت پر کراچی میں دہشگردی کی کارروائیوں کے لیے منصوبہ بندی کر رہا تھا۔
ترجمان کے مطابق گرفتار ملزمان کو مع اسلحہ و ایمونیشن مزید قانونی کارروائی کے لیے پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے دہشت گردی کی کارروائی کمانڈر اسلام الدین کے میں فتنہ الخوارج کراچی میں اور اسلام تھا اور ہوا اور
پڑھیں:
اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
دارالحکومت اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔
اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔