حکومت نے تمام وزارتوں اور سرکاری محکموں کو احکامات جاری کیے ہیں کہ بلوچستان میں فعال کالعدم اور دہشت گرد تنظیموں کے لیے ’فتنۃ الہندوستان‘ استعمال کیا جائے، یہ فیصلہ مذکورہ تنظیموں کے بھارت کے ساتھ ناقابل تردید تعلق کے شواہد سامنے آنے پر کیا گیا ہے۔

پاکستان میں جاری دہشتگردی خصوصاً بلوچستان میں ہونے والے حملوں کے پیچھے بھارت کی ریاستی سرپرستی کا پردہ پہلے چاک کیا جاچکا ہے، سیکیورٹی ذرائع اور حکومتی بیانات کے مطابق بھارت نہ صرف کالعدم تنظیموں کو مالی معاونت فراہم کر رہا ہے بلکہ ان کے سرغنہ بھارت کا باقاعدگی سے دورہ کرتے رہے ہیں جہاں انہیں لاجسٹک اور آپریشنل معاونت کے ساتھ ساتھ طبی سہولیات بھی فراہم کی جاتی رہی ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے سابق سرغنہ اسلم اچھو نے 2016 میں افغان پاسپورٹ اور جعلی نام سے بھارت کا سفر کیا، جہاں اس نے نہ صرف بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے اہلکاروں سے ملاقاتیں کیں بلکہ دہلی کے ایک اسپتال میں زیر علاج بھی رہا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت خوارج اور بلوچستان میں سرگرم دہشتگردوں کا سرپرست ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

اسلم اچھو 2018 میں کراچی میں چینی قونصلیٹ پر حملے کا ماسٹر مائنڈ تھا جبکہ اس کا بیٹا دالبندین میں چینی انجینئروں پر خودکش حملے میں ملوث رہا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بی ایل اے کے موجودہ سرغنہ بشیر زیب نے بھی 2017 میں بھارت کا دورہ کیا اور جعلی شناخت ’گل آغا‘ کے تحت افغان پاسپورٹ پر سفر کرتا رہا۔ بشیر زیب بلوچستان اور کراچی میں ہونے والے متعدد دہشتگرد حملوں میں ملوث رہا ہے، جن میں جعفر ایکسپریس پر حملہ اور چینی اہلکاروں پر حملہ شامل ہیں۔

واضح رہے کہ بلوچ نیشنل آرمی کے سرغنہ گلزار امام عرف شمبے نے بھی بھارت میں زیر علاج رہنے اور وہاں سے سہولت کاری حاصل کرنے کا اعتراف کیا تھا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بھارت پاکستان میں دہشتگردی کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کررہا ہے اور بھارتی فوج کے حاضر سروس افسران اس عمل میں ملوث ہیں۔

مزید پڑھیں: کیا پاک بھارت تنازع کے بعد بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات میں تیزی ہوئی ہے؟

سیکیورٹی اداروں کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ بھارت میں 21 سے زائد دہشتگردوں کے بیس کیمپس چلا رہی ہے، جنہیں پاکستان میں تخریب کاری کے لیے تربیت دی جاتی ہے۔ ان کیمپوں کا مرکزی مرکز بھارتی ریاست راجستھان میں بتایا جاتا ہے، جہاں سے سی پیک منصوبے کو سبوتاژ کرنے کے لیے خصوصی سیل کام کررہا ہے۔

حالیہ برسوں میں بلوچستان میں ہونے والے بڑے حملوں کے بعد بھی بھارتی مداخلت کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ اگست 2024 میں مستونگ، قلات، بولان، موسی خیل اور لسبیلہ میں عسکری تنصیبات اور شہریوں پر حملے ہوئے، جن کے پیچھے حکومت نے بھارتی سرپرستی کی نشاندہی کی تھی۔

اسی طرح مارچ 2025 میں جعفر ایکسپریس کی ہائی جیکنگ اور ستمبر 2023 میں مستونگ میں 12 ربیع الاول کے جلوس پر ہونے والے دھماکے کی تحقیقات میں بھی بھارتی خفیہ ایجنسی را کے کردار کے شواہد سامنے آئے۔

مزید پڑھیں: امن ہماری کمزوری نہیں، اراکین بلوچستان اسمبلی کی بھارتی جارحیت کی شدید مذمت

وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر دفاع خواجہ آصف بھی اس بات کی تصدیق کرچکے ہیں کہ بھارت بلوچستان میں دہشتگردی کی سرپرستی کررہا ہے اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان یعنی فتنہ الخوارج سمیت بی ایل اے یعنی فتنۃالہندوستان کو اسلحہ اور مالی وسائل فراہم کر رہا ہے تاکہ ملک بھر میں عدم استحکام پیدا کیا جا سکے۔

دفاعی تجزیہ کار راشد قریشی نے وی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ایک طویل عرصے سے پاکستان اور بالخصوص بلوچستان میں دہشتگردی کررہا ہے جس کے ٹھوس شواہد پاکستان متعدد بار عالمی اداروں اور دنیا کے سامنے رکھ چکا ہے، اور بھارتی ایجنسی کے حاضر سروس افسر کلبھوشن یادیو کی پاکستان سے گرفتاری اس بات کی واضح دلیل ہے۔

’دراصل بھارت یہ تمام اقدامات اس لیے کررہا ہے کیونکہ وہ دنیا کو الجھانا چاہ رہا ہے کہ پاکستان دہشتگردوں کی سرپرستی کرنے والا ملک ہے حالانکہ بھارت بلوچستان میں مداخلت کرتے ہوئے دہشتگرد تنظمیوں کی حمایت کررہا ہے، جو لوگوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔‘

مزید پڑھیں: بلوچستان میں دہشتگردی کی بھارتی سرپرستی کے ٹھوس شواہد سامنے آگئے

راشد قریشی نے بتایا کہ معرکہ حق میں پاکستان نے بھارت کو ایسا سبق سکھایا ہے کہ ان کی آئندہ آنے والی نسلیں اسے یاد رکھیں گی البتہ اس امر کی ضرورت ہے کہ اب پاکستان عالمی فورمز اور دنیا بھر کو یہ باور کروائے کہ بھارت خود ایک دہشتگرد ریاست ہے جس کے لیے ہمیں سفارتی طور پر اپنا مضبوط مقدمہ لڑنے کی ضرورت ہے۔

بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ کے ترجمان بابر یوسف زئی نے وی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ہمیشہ سے بلوچستان کے حالات خراب کرنے میں ملوث رہا ہے اور وہ اپنی پراکسیز کے ذریعے بلوچستان میں ہمیشہ مداخلت کرتا رہا ہے۔

’ماضی میں بھارتی ایجنٹ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری ہو یا حالیہ دِنوں میں بھارتی ایجنٹ اشوک چترویدی کی گرفتاری جو خود اس بات کے اعتراف کرچکے ہیں کہ بھارت اپنی پراکسی کے ذریعے بلوچستان میں دہشتگردی کرواتا ہے۔‘

مزید پڑھیں:پہلگام فالس فلیگ میں ناکامی کے بعد بھارت کا بلوچستان میں بڑی دہشتگردی کا منصوبہ بے نقاب

بابر یوسف زئی نے کہا کہ بلوچستان میں موجود بھارتی پراکسیز بی ایل اے اور بی ایل ایف کی شکل میں بلوچستان میں معصوم شہریوں کا قتل عام کرتی ہیں جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ بھارت ایک سفاک اور دہشتگرد ملک ہے۔

’جب سے پاکستان آزاد ہوا ہے تب سے بھارت کی یہ کوشش رہی ہے کہ بلوچستان کو غیر مستحکم کرے۔ بلوچستان میں جتنی بھی دہشتگردی کی کاروائیاں ہوتی ہیں ان کے پس پردہ بھارتی شواہد ملتے ہیں۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بلوچستان بھارت پاکستان فتنۃ الہندوستان ناقابل تردید.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بلوچستان بھارت پاکستان فتنۃ الہندوستان بلوچستان میں دہشتگردی پاکستان میں شواہد سامنے مزید پڑھیں ہونے والے بی ایل اے کررہا ہے کہ بھارت کے مطابق میں ملوث بھارت کا رہا ہے کے لیے

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار