کراچی، پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان دو مختلف مقابلوں میں 3 زخمی سمیت 5 ڈاکو گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
کراچی:
شہر قائد کے علاقے عزیزآباد اور پاک کالونی پولیس نے مبینہ مقابلوں کے بعد 3 زخمی سمیت 5 ڈاکوؤں کو گرفتار کر کے اسلحہ اور دیگر سامان برآمد کر لیا۔
تفصیلات کے مطابق عزیزآباد پولیس نے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب کریم آباد فرنیچر مارکیٹ کے قریب سے مبینہ مقابلے کے بعد زخمی سمیت 2 ڈاکوؤں کو گرفتار کر لیا ، زخمی حالت میں گرفتار ملزم کو طبی امداد کے لیے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا۔
ترجمان ایس ایس پی ڈسٹرکٹ سینٹرل کے مطابق زخمی حالت میں گرفتار ملزم کی شناخت 30 سالہ شہروز ولد مجاہد کے نام سے کی گئی ، دوسرے گرفتار ملزم نے اپنا نام شارق ولد راجو بتایا۔
گرفتار ملزمان سے ایک پستول بمعہ گولیاں ، موبائل فونز ، نقد رقم اور موٹرسائیکل برامد کی گئی۔
دوسرا مقابلہ پاک کالونی میں ہوا جہاں پولیس نے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب جہان آباد شیرشاہ پل کے قریب سے مبینہ مقابلے کے بعد 2 زخمی سمیت 3 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
زخمی حالت میں گرفتار ملزمان کو طبی امداد کے لیے سول اسپتال منتقل کیا گیا ، ترجمان کراچی پولیس کے مطابق زخمی حالت میں گرفتار ملزمان کی شناخت 18 سالہ ثقلین ولد قاسم اور 19 سالہ جبار ولد جاوید کے ناموں سے کی گئی جبکہ تیسرے گرفتار ملزم نے اپنا نام کاشف ولد شیر دال خان بتایا۔
گرفتار ملزمان سے 2 پستولیں بمعہ گولیاں ، موبائل فونز ، نقد رقم ، منشیات اور موٹرسائیکل برآمد کی گئی ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: زخمی حالت میں گرفتار ملزم گرفتار ملزمان زخمی سمیت کو گرفتار کی گئی
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک