سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کو براہ راست نشر کرنے کی اجازت دیدی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
سپریم کورٹ آف پاکستان نے مخصوص نشستوں کے کیس کی سماعت کو براہ راست نشر کرنے کی اجازت دے دی۔
سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے مخصوص نشستوں سے متعلق کیس میں سنی اتحاد کونسل کی متفرق درخواستوں پر فیصلہ سنادیا۔
عدالت نے بینچ کی تشکیل پر اعتراضات کی درخواستیں مسترد کردیں جبکہ مخصوص نشستوں کے کیس کی سماعت 26ویں ترمیم کی درخواستوں کے فیصلے کے بعد سماعت کرنے کی درخواست بھی مسترد کردی۔
عدالت نے مختصر فیصلہ سنایا جبکہ تفصیلی حکم نامہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔
سپریم کورٹ نے آئی ٹی ڈپارٹمنٹ کو لائیو اسٹریمنگ کے انتظامات کرنے کا حکم دیتے ہوئے مخصوص نشستوں کے کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ سنی اتحاد کونسل کے وکیل حامد خان نے 26ویں آئینی ترمیم سے متعلق کیس کا فیصلہ ہونے تک مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت کو ملتوی کرنے اور کیس کو براہ راست نشر کرنے کی استدعا کی تھی۔
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کیس کی سماعت سپریم کورٹ کرنے کی
پڑھیں:
آزاد کشمیر مہاجرین نشستوں کے معاملے پر وفاقی حکومت نرم
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت مہاجرین کی نشستیں مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے ان کی تعداد کم کرنے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کی مخصوص نشستوں کے معاملے پر وفاقی حکومت نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے بڑے مطالبے کو تسلیم کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت مہاجرین کی نشستیں مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے ان کی تعداد کم کرنے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے مہاجرین کی نشستوں میں کمی سے متعلق اپنا مؤقف آزاد کشمیر حکومت تک پہنچا دیا ہے، جبکہ وزیراعظم آزاد کشمیر جلد جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے رابطہ کر کے وفاقی حکومت کے پیغام سے آگاہ کریں گے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق وفاق کی جانب سے ویلی کی نشستوں میں اضافے اور مہاجرین کی نشستوں میں کمی کی تجویز زیر غور ہے، جس کا مقصد نمائندگی کے موجودہ تناسب میں توازن پیدا کرنا ہے۔
دوسری جانب اس معاملے پر سیاسی سرگرمیاں بھی تیز ہو گئی ہیں اور کل ہونے والی کل جماعتی کانفرنس کے اجلاس میں اہم فیصلوں اور مشترکہ لائحہ عمل کے اعلان کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق مہاجرین اور ویلی نشستوں کے تناسب سے متعلق کسی بھی فیصلے کے آزاد کشمیر کی سیاسی ساخت اور انتخابی نظام پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جس کے باعث تمام متعلقہ حلقے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔