چینی چپس کو روکنے کی امریکی کوشش ناکام، آئندہ بھی کامیابی کا امکان نہیں، چینی میڈیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
بیجنگ :امریکی محکمہ تجارت نے چین کی جدید کمپیوٹنگ چپس بشمول ہواوے اسسینڈ چپس پر عالمی سطح پر پابندی عائد کرنے کی کوشش میں رہنما خطوط جاری کیے ہیں۔ اس طرح کی یکطرفہ غنڈہ گردی اور تحفظ پسندانہ طرز عمل چین اور امریکہ کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات میں طے پانے والے اتفاق رائے کے منافی ہے۔ چین کی برآمدات پر پابندی لگانے سے لے کر چین کی برآمدی مصنوعات کو روکنے تک، امریکہ کے لانگ آرم دائرے میں شدت اختیار کر گئی ہے، جو چین کی تکنیکی کامیابیوں اور مارکیٹ شیئر میں اضافے کے بارے میں امریکا کی بڑھتی ہوئی پریشانی کی عکاسی کرتی ہے۔ ایک چپ کی تیاری کے لئے کم از کم 7 ممالک اور 39 کمپنیوں کے صنعتی تعاون کی ضرورت ہوتی ہے ، جس میں 50 سے زیادہ صنعتیں اور ہزاروں عمل شامل ہیں۔ امریکا کی جانب سے برآمدی کنٹرول اور دیگر غلط طریقوں کو بار بار اپنانے سے نہ صرف اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے اور تکنیکی جدت طرازی میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے بلکہ خود امریکی کمپنیوں اور صارفین کے مفادات کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ تحفظ پسندی مسابقت کی حفاظت نہیں کرسکتی۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائےگا کہ امریکہ “مصنوعی ذہانت کی جدت طرازی میں سب سے آگے” رہے، لیکن سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے، زیادہ باصلاحیت افراد کو برقرار رکھنے،راغب کرنے، اور ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ میں اضافہ کرنے میں سوچنے کے بجائے، وہ دوسروں کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔ نیویارک ٹائمز نے ایک مضمون میں کہا ہے کہ امریکی حکومت کا متعلقہ طرز عمل امریکی طاقت اور جدت طرازی کے ستونوں کو کمزور کر رہا ہے۔ چین کی ترقی کو کسی محاصرے اور ناکہ بندی سے نہیں روکا جا سکتا۔ 2024 میں ، چین کے کل آر اینڈ ڈی اخراجات 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔ اس اسکیم کے لیے اہلیت کیا ہو گی اس بارے میں تفصیلات آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں دیے جانے کی توقع ہے۔ اسلام ٹائمز۔ حکومت پنجاب نے نوجوانوں کو آئندہ مالی سال میں الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال میں 50 ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔
پنجاب کے وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان نے کہا کہ ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت دی جائے گی، رجسٹریشن سمیت دیگر مراعات بھی دی جائیں گی۔ صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔ اس اسکیم کے لیے اہلیت کیا ہو گی اس بارے میں تفصیلات آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں دیئے جانے کی توقع ہے۔