یوٹیوبر مسٹر بیسٹ دنیا کے کم عمر ترین ارب پتی بن گئے
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
امریکی یوٹیوبر جمی ڈونلڈسن جو مسٹر بیسٹ کے نام سے مشہور ہیں، دنیا کے کم عمر ترین خودساختہ ارب پتی بن گئے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق یوٹیوبر جمی ڈونلڈسن کی مجموعی دولت ایک ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ 27 سالہ مسٹر بیسٹ نے کم عمری میں یوٹیوب پر ویڈیوز بنا کر شہرت حاصل کی اور آج وہ دنیا کے آٹھویں کم عمر ارب پتی ہیں، جنہوں نے اپنی دولت بغیر کسی وراثت کے خود کمائی ہے۔
2012 میں یوٹیوب ویڈیوز سے اپنے کیرئیر کا آغاز کرنے والے مسٹر بیسٹ نے 2017 میں "I Counted to 100,000" ویڈیو سے شہرت حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے بڑے پیمانے پر چیلنجز، انعامات اور فلاحی ویڈیوز کے ذریعے شہرت پائی۔
View this post on InstagramA post shared by MrBeast (@mrbeast)
27 سالہ یوٹیوبر کے کاروباری منصوبوں میں بیسٹ برگر اور Feastables چاکلیٹ کمپنی شامل ہیں۔ انہوں نے کریئیٹو جوس کے ساتھ مل کر Juice Funds کے نام سے ایک فنڈ بھی قائم کیا ہے جو نئے کریئیٹرز میں سرمایہ کاری کرتا ہے۔
مسٹر بیسٹ اپنی فلاحی سرگرمیوں کے لیے بھی جانے جاتے ہیں، جن میں بیسٹ فلاحی ادارہ اور ٹیم ٹریز مہم شامل ہیں۔ یاد رہے کہ انہوں نے یہ عہد کیا ہے کہ اپنی تمام دولت زندگی میں دوسروں کی مدد کے لیے خرچ کریں گے اور یہی وجہ ہے کہ انہیں دنیا بھر میں موجود فالوورز کی جانب سے بےحد پسند کیا جاتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔
یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔
حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ