عمران خان کی پیرول پر رہائی کی درخواست پر عدالت کا تحریری حکم نامہ جاری
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
اسلام آباد:
عمران خان کی پیرول پر رہائی کی درخواست پر عدالت نے تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔
قائم مقام چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی پیرول پر رہائی کی درخواست سے متعلق 14 مئی کی سماعت کا آرڈر جاری کردیا۔
حکم نامے کے مطابق ہائی کورٹ نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے وکلا سے مزید معاونت طلب کرلی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلے میں لکھا کہ آرڈر لکھواتے کچھ حقائق سامنے آئے ہیں۔ ان حقائق پر درخواست گزار کے وکیل معاونت کریں ۔ کیس کی کارروائی غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کی جاتی ہے۔
یاد رہے کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے بانی پی ٹی آئی کی پیرول پر رہائی کی درخواست دائر کی تھی ، جس پر رجسٹرار آفس نے اعتراضات عائد کیے تھے۔
عدالت نے درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات بھی تاحال دُور نہیں کیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی پیرول پر رہائی کی درخواست
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔