بھارت بلوچستان میں دہشتگردی کا ذمہ دار، کلبھوشن و عسکریت پسندوں کے اعترافات ثبوت ہیں: عطاء اللہ تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
کوئٹہ (نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے خضدار بس حادثے میں زخمی ہونے والے بچوں کی عیادت اور ان کے لواحقین سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واقعے کو قومی سانحہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ خضدار میں پیش آنے والے دلخراش واقعے میں ہمارے بچوں نے عظیم قربانی دی ہے اور پوری پاکستانی قوم ان کے عزم اور حوصلے کو سلام پیش کرتی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ خضدار واقعے میں شدید زخمی بچوں کے چہروں پر حوصلہ اور وطن سے محبت کی جھلک نمایاں تھی۔ ان بچوں کا جذبہ اور ولولہ اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستانی قوم کو کوئی شکست نہیں دے سکتا۔ اس موقع پر انہوں نے صوبیدار سلیم کا خصوصی طور پر ذکر کیا جنہوں نے دو بیٹیوں کو سپرد خاک کیا جبکہ ان کا تیسرا بیٹا شدید زخمی ہے۔ اس کے باوجود وہ پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے رہے، جو قوم کے لیے مثال ہے۔
عطاء اللہ تارڑ نے بتایا کہ خضدار میں ایک شخص کے چار بچے شدید زخمی ہوئے لیکن ان کے حوصلے اب بھی بلند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج بین الاقوامی اور قومی میڈیا کو خضدار میں اصل صورتحال سے آگاہ کرنے کے لیے لایا گیا ہے تاکہ دنیا بھارت کی دہشتگردی اور پاکستان مخالف سرگرمیوں سے واقف ہو۔
انہوں نے کہا کہ بھارت، آپریشن “بنیان مرصوص” میں شکست کے بعد اب سافٹ ٹارگٹس کو نشانہ بنا رہا ہے۔ کلبھوشن یادیو کی بلوچستان سے گرفتاری، بھارت کی ریاستی دہشتگردی کا واضح ثبوت ہے۔ عسکریت پسند گلزار امام شمبے اور سرفراز بنگلزئی نے خود بھارتی سرپرستی کا اعتراف کیا ہے، جو کہ بھارت کے عزائم کو بے نقاب کرتا ہے۔
عطاء اللہ تارڑ نے انکشاف کیا کہ صرف آپریشن معرکہ حق کے دوران بلوچستان میں 33 دہشت گرد حملے کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا واضح عزم ہے کہ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا اور بلوچستان کو امن کا گہوارہ بنایا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی بھارت کے ملوث ہونے کے شواہد عوام اور عالمی اداروں کے سامنے رکھے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستانی قوم متحد ہے اور افواج پاکستان مکمل طور پر دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے بھارت کو “فتنہ ہندوستان” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم اسے ہر جگہ بے نقاب کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ حیرت کی بات ہے کہ مودی حکومت کا بلوچستان کے واقعات سے براہ راست تعلق سامنے آ رہا ہے۔ فتنہ ہندوستان کے دہشتگردوں کو بھارتی میڈیا پر دکھایا گیا اور جعفر ایکسپریس واقعہ کی ویڈیو بھی ان دہشتگردوں نے بھارتی میڈیا کو فراہم کی۔
انہوں نے کہا کہ یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ بھارت بلوچستان میں دہشت گرد سرگرمیوں میں براہ راست ملوث ہے، اور ہم یہ بات عالمی فورمز پر بار بار اجاگر کریں گے۔ عطاء اللہ تارڑ نے مزید کہا کہ ہماری مسلح افواج نے روایتی جنگ میں بھی بھارت کو شکست دی ہے اور ان کے چھ جنگی جہاز گرائے۔ بھارت نے خود تسلیم کیا کہ اسے شدید نقصان ہوا ہے۔
وزیر اطلاعات نے وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر، ایئر چیف ظہیر احمد بابر اور نیول چیف نوید اشرف کی بھارت کو منہ توڑ جواب دینے میں قائدانہ کردار کو سراہا اور کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں اور ریاستی ادارے مل کر بلوچستان میں امن بحال کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری بہادر افواج نے کئی دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ ہر دہشت گرد کو اس کے انجام تک پہنچایا جائے۔ عطاء اللہ تارڑ نے بھارتی وزیراعظم کو “گجرات کا قصائی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس شکست خوردہ لیڈر کو پاکستان کی کامیابیوں پر شرمندگی کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت نے رات کی تاریکی میں بزدلانہ حملہ کیا، جس کا پاک افواج نے بھرپور اور منہ توڑ جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ اب بھارت صرف دھمکیاں دے کر اپنی خفت مٹانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔ ہم بھارتی دہشتگردی کو ہر فورم پر بے نقاب کرتے رہیں گے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ پاکستان کی بڑی کامیابی ہے کہ کشمیر کا مسئلہ ایک مرتبہ پھر عالمی سطح پر اجاگر ہو رہا ہے۔ بلوچستان کے حوالے سے حکومت کی سنجیدہ اور مربوط اپروچ موجود ہے اور ہم تسلسل کے ساتھ صوبے کے مسائل کو حل کرتے رہیں گے۔
آخر میں، انہوں نے بچوں کے لواحقین سے ملاقات کی اور ان کے حوصلے اور عزم کو سراہتے ہوئے انہیں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: عطاء اللہ تارڑ نے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں وفاقی وزیر کہ بھارت رہا ہے ہے اور
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔