آپریشن بُنیان مرصوص میں ذلت آمیز شکست؛ کانگریس رہنما نے بھارتی ناکامی کا بھانڈا پھوڑ دیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
معرکہ حق بُنیان مرصوص میں بھارت کی تاریخی شکست پر کانگریس رہنما نے عبرتناک انجام کا اعتراف کرتے ہوئے مودی سرکار کی پالیسیوں کا بھانڈا پھوڑ دیا۔
پاک فوج کے آپریشن بُنیان مرصوص میں بھارتی افواج کی تاریخی شکست کے بعد وہاں کی سیاست میں بھی بھونچال آ چکا ہے۔ بھارت کی ذلت آمیز شکست پر کانگریس ایم ایل اے وجے واڈیٹیوار نے مودی اور بھارتی فوج پر تابڑ توڑ حملے کیے ہیں۔
کانگریس کے ایم ایل اے وجے واڈیٹیوار نے مہنگی دفاعی خریداری اور بوسیدہ حکمت عملی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے مودی سرکار پر زوردار وار کیا ہے اور انہوں نے مودی کی جنگی سوچ کو ناکام قرار دے دیا۔
کانگریس ایم ایل اے کا کہنا تھا کہ پاکستان نے سستے ڈرونز بھارت بھیجے، بھارت نے اربوں جھونک دیے۔ چین نے پاکستان کو 5 ہزار ڈرونز دے کر بھارت کی کمزوری بے نقاب کر دی جب کہ مودی سرکار اربوں جھونکتی رہی۔
انہوں نے کہا کہ مودی سرکار نے 15 ہزار کے ڈرون گرانے کے لیے 15 لاکھ کا میزائل فائر کیا۔ مودی سرکار کی جنگی حکمت عملی مکمل طور پر ناکام اور 5 ہزار سستے پاکستانی ڈرونز کے سامنے بھارتی دفاع بےبس ثابت ہوگیا۔
کانگریس رہنما نے بھارت کی پاکستان کے ہاتھوں بدترین شکست کو مودی سرکار کی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے کم لاگت میں حملہ کیا جب کہ بھارت نے عوام کے ٹیکس کا پیسہ بےدریغ ضائع کیا۔
کاگنریس ایم ایل اے نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کے 3 سے 4 رافیل طیارے تباہ کر دیے، مگر مودی سرکار کی مجرمانہ خاموشی بدستور برقرار ہے۔ انہوں نے مودی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ رافیل سودے پر نعرے تھے، اب نقصان چھپایا کیوں جا رہا ہے؟۔
دوسری جانب دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی کی خود پسندی نے قومی سلامتی داؤ پر لگا دی ہے۔ صرف مہنگے ہتھیار کافی نہیں، بھارتی حکمت عملی مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مودی سرکار کی ایم ایل اے بھارت کی نے بھارت
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔