کراچی؛ شوہر کی فائرنگ سے بیوی کے قتل کا ایک ہی دن میں دوسرا واقعہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
کراچی:
شہر قائد میں شوہر کی فائرنگ سے بیوی کے قتل کے ایک ہی دن میں دو واقعات رونما ہوئے۔
اورنگی ٹاؤن فرید کالونی میں شوہر نے فائرنگ کرکے بیوی کو قتل کردیا اورموقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔
مومن آباد تھانے کےعلاقے اورنگی ٹاؤن سیکٹر 10 فرید کالونی میں گھر میں فائرنگ سے خاتون شدید زخمی ہو گئی، جسے فوری طور پر عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑگئی ۔
یہ خبر بھی پڑھیں: کراچی، گلشن معمار میں شوہر کی فائرنگ سے بیوی ہلاک
مقتولہ کی شناخت58 سالہ رخسانہ زوجہ گل شیر کے نام سے کی گئی ۔
ایس ایچ او مومن آباد معراج انوار کے مطابق مقتولہ خاتون کو اس کے شوہرگل شیرنے فائرنگ کرکے قتل کیا ہے اور ملزم واقعے کے بعد موقع فرار ہوگیا ہے۔ انھوں نے بتایاکہ مقتولہ خاتون کا قتل خاندانی تنازع معلوم ہوتا ہے، تاہم پولیس نے جائے وقوع سے شواہد اکٹھے کرکے مفرور شوہر کی تلاش شروع کردی ہے ۔
قبل ازیں کراچی میں گلشن معمار کے علاقے ملا عیسیٰ گوٹھ معمار میں شوہر کی فائرنگ سے بیوی جاں بحق ہوگئی، جس کی لاش ایمبولینس کے ذریعے عباسی شہید اسپتال منتقل کی گئی۔
ترجمان کراچی پولیس کے مطابق مقتولہ کی شناخت 22 سالہ اقصیٰ سولنگی کے نام سے کی گئی۔مقتولہ کے ماموں انور علی سولنگی نے ایکسپریس کو بتایا کہ مقتولہ کو اس کے شوہر اسماعیل چنہ نے تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد سر پر گولی مار کر قتل کر دیا۔
اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچ گئی اور ملزم کو آلہ قتل ( پستول ) سمیت حراست میں لے کر تھانے منتقل کیا۔ مقتولہ نے تقریباً 6 ماہ قبل اسماعیل چنہ سے اپنے گھر والوں کی اجازت کے بغیر محبت کی شادی کی تھی جبکہ اسماعیل پہلے سے شادی شدہ اور 4 بچوں کا باپ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شوہر کی فائرنگ سے بیوی میں شوہر
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔