مسلسل انکار کے بعد بھارتی وزیرخارجہ کا جنگ بندی میں امریکی کردار کااعتراف
اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT
پاکستان سے ذلت آمیز شکست کے بعد بھارت مسلسل جنگ بندی میں امریکی کردار سے انکار کرتا رہا، بھارتی حکومت اور سیکریٹری خارجہ کی جانب سے بارہا جنگ بندی میں امریکی کردار کی تردید کی جاتی رہی۔ مگر اب بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے انکشاف کیا کہ امریکی نائب صدر اور سیکریٹری آف اسٹیٹ روبیو بھارتی حکومت سے براہِ راست رابطے میں تھے۔
بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کے مطابق امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ روبیو کا مجھ سے رابطہ ہوا، کشیدگی کے دوران امریکی نائب صدر وینس نے وزیراعظم مودی سے رابطہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں:یکم سے 6 جون تک پنجاب میں واقع فوجی اڈوں کی بجلی پانی بند، سکھوں کا اعلان
دفاعی ماہرین کے مطابق بھارتی حکومت نے ذلت آمیز شکست کے بعد جنگ بندی میں امریکی کردار سے مسلسل انکار کیا، تاہم اب جے شنکر کا انٹرویو جنگ بندی میں امریکی کردار کی تصدیق کرتا ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ذلت آمیز شکست چھپانے کے لیے بھارت نے مختلف حربے آزمائے، لیکن آخرکارسچ سامنے آگیا۔امریکی صدر کے واضح بیانات نے بھارت کو سچ بولنے پر مجبور کر دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا بھارتی وزیرخارجہ پاکستان جنگ بندی جے شنکر سیکریٹری آف اسٹیٹ روبیو سیکریٹری آف سٹیٹ نریندر مودی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا بھارتی وزیرخارجہ پاکستان سیکریٹری آف اسٹیٹ روبیو سیکریٹری آف سٹیٹ جنگ بندی میں امریکی کردار سیکریٹری آف
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔