گلگت (ویب ڈیسک) شمالی علاقہ جات کی سیر کے لیے جانیوالے چار دوستوں کے زیراستعمال گاڑی مل گئی ہے جبکہ چاروں دوستوں کی موت کی غیرمصدقہ اطلاعات ہیں تاہم سرکاری طور پر اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ ریسکیو 1122 سکردو کے مطابق لاپتہ سیاحوں کی گاڑی سکردو روڈ پر استک نالے کے قریب کھائی میں گری ہوئی ملی جس کے بعد اس علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔ 
تفصیل کے مطابق رشتہ داروں کے ساتھ چھٹیاں منانے کی خاطر اٹلی سے گجرات آنے والا سلمان نصراللہ تین دوستوں کے ہمراہ پاکستان کے شمالی علاقوں میں گلگت بلتستان کی سیر کے لیے گیا تھا  لیکن 16 مئی کے بعد سے چاروں دوست لاپتہ تھے اور آج بالآخر  ان کی گاڑی تباہ حال صورت میں سکردو روڈ کے قریب ایک نالے سے مل گئی۔
ہنزہ پولیس نے بتایا کہ پنجاب ، گجرات  سے تعلق رکھنے والے سیاح جو 15 مئی کو گلگت سے سکردو کے لیے روانہ ہونے کے بعد لاپتہ ہو گئے تھے، ان کی گاڑی سکردو روڈ پر ساتک نالہ کے قریب ملی ہے۔
گلگت بلتستان پولیس اور ریسکیو ٹیمیں کئی دنوں کی مشکل کوششوں کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ مقامی حکام اور ہنگامی خدمات کے ساتھ مل کر مزید کارروائیاں جاری ہیں، ہم سب سے درخواست کرتے ہیں کہ اس مشکل وقت میں خاندانوں کی رازداری کا احترام کریں اور غیر تصدیق شدہ مواد کو شیئر کرنے سے گریز کریں۔
گلگت بلتستان پولیس کے مطابق چاروں سیاحوں نے 15 مئی کو گلگت کے علاقے دنیور کے ایک مقامی ہوٹل میں رات گزاری تھی۔

جڑواں شہروں میں دن کو رات ہوگئی، کالی گھٹاؤں کے بعد ژالہ باری کیساتھ طوفانی بارش، ویڈیوز وائرل 

کوہستان کرپشن اسکینڈل، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اکاؤنٹنٹ جنرل کے تبادلے پر برہمی کا اظہار


سرچ آپریشن کی کاوشوں میں مصروف سید عمر فاروق نے بتایا کہ ’آج سرچ آپریشن کے دوران سکردو جگلوٹ روڈ پر سفید رنگ کی گاڑی گہری کھائی میں گری ہوئی نظر آئی، جس کے حوالے سے بعد میں تصدیق ہوئی کہ یہ انہی سیاحوں کی گاڑی ہے۔‘
برطانوی میڈیا کے مطابق جگلوٹ سکردو روڈ پر گانجی پڑی کا علاقہ ہے، جو گلگت اور ضلع سکردو کا جنکشن ہے، جہاں سے سکردو کی طرف سڑک مڑ جاتی ہے۔جگلوٹ پولیس کے ترجمان ذبیح اللہ کے مطابق انہوں نے بتایا کہ رشتہ داروں کی جانب سے سیاحوں کی آخری موبائل لوکیشن جگلوٹ ٹاور بتائی گئی، تاہم جگلوٹ ٹاور سے سکردو کی جانب سڑک نکلتی ہے اور وہاں بھی اسی ٹاور کے سگنلز کچھ علاقے تک کام کرتے ہیں،گلگت سکردو روڈ پر آگے جا کر ہراموش کے علاقے میں سگنلز ڈراپ ہوجاتے ہیں اور وہاں پر ’ایس کام‘ کام کرتا ہے، جب کہ باقی نیٹ ورکس کے سگنلز ڈراپ ہوجاتے ہیں۔‘

اوکاڑہ میں ٹرالر کی موٹر سائیکل کو ٹکر، باپ، 2 بیٹے اور بیٹی جاں بحق

حکومت کیساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کیلئے چیئرمین پی ٹی آئی اور بیرسٹر سیف متحرک


 مختلف علاقوں میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کو بھی چیک کیا گیا اور ایک سی سی ٹی وی کیمرے میں گاڑی جگلوٹ سکردو روڈ پر 16 مئی کی صبح 10 بج کر 37 منٹ پر سسی کے علاقے میں دیکھی گئی۔پولیس کے مطابق سسی سے آگے دمبوداس کی بڑی چیک پوسٹ پر لاپتہ سیاحوں کی گاڑی گزرنے کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں اور اسی وجہ سے جگلوٹ اور دمبوداس  کے درمیان کے علاقے میں سرچ آپریشن کا آغاز کیا گیا۔
انڈپینڈنٹ اردو کے مطابق لاپتہ سیاحوں میں سے دو کے رشتہ دار عثمان وڑائچ نے بتایا کہ ’انہوں نے گھر والوں سے آخری رابطہ 16 مئی کو کیا تھا اور سکردو جانے کا بتایا۔ اس کے بعد سے ان کے موبائل فونز بند تھے۔‘ لاپتہ سیاحوں میں عمر، سلمان اور واصف شہزاد آپس میں رشتہ دار ہیں اور عثمان ڈار ان کے دوست ہیں۔

بحیرہ عرب میں ہوا کا کم دباؤ شدت اختیار کرگیا، پاکستانی ساحلوں کو کتنا خطرہ؟

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: لاپتہ سیاحوں سکردو روڈ پر نے بتایا کہ سیاحوں کی علاقے میں کے مطابق کے علاقے کی گاڑی کے بعد

پڑھیں:

بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب

کراچی:

ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔

درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔

درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔
 

متعلقہ مضامین

  • سیاستدان امیر دوستوں کو مراعات دینا، غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں: بلاول
  • شانگلہ:چھت منہدم‘6بچے‘گاڑی کھائی میں جا گرنے پر 6مسافر گلگت میں جاںبحق
  • جےیوآئی کے سینئررہنما حافظ حمداللہ لاپتہ ہوگئے
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود