وفاقی دارالحکومت میں کالی گھٹائیں،دن رات میں تبدیل ،سمیت گردونواح میں طوفانی بارش، تیز ہوائیں چلنے سے بجلی منقطع
اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT
اسلام آباد(اوصاف نیوز)اسلام آباد ، راولپنڈی سمیت مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں کےساتھ شدید بارش، ژالہ باری ،تیز ہواوں کے باعث بجلی کی سپلائی منقطع ،
راولپنڈی،ہری پور،خان پور، ایبٹ آباد، لوئردیر، بونیر، صوابی، مانسہرہ، ٹیکسلا، نوشہرہ میں آندھی اورطوفانی ہوائیں چلنے سے بجلی کی سپلائی منقطع ہو گئی۔
طوفانی ہواؤں کی وجہ سے قائداعظم یونیورسٹی کیکینٹینکا شیڈ گرگیاجبکہ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے تمام افسران کو الرٹ کردیا کہ وہ مختلف علاقوں میں مانیٹرنگ یقینی بنائیں
زیر تعمیر عمارات اور نالوں کی صورتحال پر بھی نظر رکھی جائے۔ ٹریفک پولیس کے ساتھ مل کر ٹریفک کا بہاؤ یقینی بنایا جائے۔ دوسری جانب مینگورہ میں بارش اور ژالہ باری کے باعث سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
بارش اور ژالہ باری کی وجہ سے پانی گھروں اور دکانوں میں داخل ہو گیا، سوات میں مختلف سڑکوں پر پانی جمع ہونے کی وجہ سے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں، بارش اور طوفان کے باعث کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی ہے۔
مودی کو جھٹکا،بنگلہ دیش نے بھارت کیساتھ دفاعی معاہدہ منسوخ کردیا
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بذات خود نشہ کرنے والا شخص کسی بھی جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور نہ ہی اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والے کو مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا کوئی حق حاصل ہے۔جیونیوز کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم ’سنی مسیح‘ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقراررکھنے کا حکم دے دیا۔
حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان
جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے کیس کا تحریری فیصلہ تحریر کیا ، جبکہ اس اہم کیس کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔دورانِ سماعت مجرم کے وکیل نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ واردات کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، لہٰذا اس بنیاد پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
عدالت نے اس استدعا کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔ عدالت نے رولنگ دی کہ رضاکارانہ نشے کو کسی بھی مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قانون کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا کہ جرم سے استثنیٰ صرف اور صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف (زبردستی) یا پھر اس کی لاعلمی میں کوئی نشہ آور چیز دی گئی ہو اور وہ اپنے حواس میں نہ ہو۔
پاکستانی نوجوان مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کے عشق میں لائن آف کنٹرول کے پار پہنچ گیا
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجرم نے انتہائی بے دردی سے ایک کمسن اور معصوم بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا۔ یہ جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے جو کسی بھی رعایت کا متقاضی نہیں، لہٰذا مجرم کی اپیل خارج کی جاتی ہے۔
مزید :