شاہ محمود قریشی اسپتال سےڈسچارج،جیل منتقل کردیاگیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو اسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق شاہ محمود قریشی کو 17 مئی 2025 کو صبح کے وقت سینے میں درد کی شکایت پر لاہور کے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) منتقل کیا گیا تھا، جہاں وہ 8 روز تک زیر علاج رہے۔
ڈاکٹرز کی جانب سے طبیعت میں بہتری کے بعد انہیں اسپتال سے ڈسچارج کرنے کی منظوری دی گئی، جس کے بعد پولیس کی بھاری نفری کی نگرانی میں انہیں اسپتال سے واپس منتقل کیا گیا۔
یاد رہے کہ اسپتال میں قیام کے دوران ان کے متعدد ٹیسٹ اور طبی معائنے کیے گئے، جن میں انجیوگرافی بھی شامل تھی۔ ڈاکٹروں نے شاہ محمود قریشی کو مزید آرام اور باقاعدہ چیک اپ کی ہدایت دی ہے۔
IMFمزیدپڑھیں:کیساتھ بجٹ اہداف پراتفاق رائےنہ ہوسکا، مذاکرات جاری رکھنےکااعلان
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: شاہ محمود قریشی اسپتال سے
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔