الیکشن میں ڈاکہ ڈالنے والوں کو اس ملک میں جمہوریت قبول نہیں، سلمان اکرم راجا
اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT
الیکشن میں ڈاکہ ڈالنے والوں کو اس ملک میں جمہوریت قبول نہیں، سلمان اکرم راجا WhatsAppFacebookTwitter 0 24 May, 2025 سب نیوز
لاہور (آئی پی ایس )پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا نے لاہور ہائیکورٹ میں وکلا کنونشن سے خطاب میں کہا ہے کہ الیکشن میں ڈاکہ ڈالنے والوں کو اس ملک میں جمہوریت قبول نہیں ہے۔ لاہور ہائیکورٹ میں لاہور ہائیکورٹ بار اور لاہور بار ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام وکلا کنونشن کا انعقاد کیا گیا۔
وکلا کنونشن میں سیکریٹری سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، صدر لاہور ہائیکورٹ بار، صدر کراچی بار ایسوسی ایشن، اسلام آباد ایسوسی ایشن سمیت دیگر وکلا رہنماں نے بھی خطاب کیا۔پی ٹی آئی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمارے اوپر جھوٹ پر مبنی نظام مسلط کردیا گیا ہے، الیکشن لوٹنے کے بعد ہماری عدالتوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی گئی۔
پاکستان سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر حامد خان کا کہنا تھا کہ ہمارا عدالتی نظام بے معنی ہو کر رہ گیا، یہ ہم پر فرض ہے آئین کے لیے کھڑے ہو جائیں۔انہوں نے کہا کہ شہباز شریف ایک پپٹ ہے، شہباز شریف کو خود کو وزیر اعظم کہتے ہوئے خود کو شرم آنی چاہیے، جس نے 26ویں ترمیم کے لیے ووٹ ڈالا ان کے نام سیاہ باب میں لکھے جائیں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرجناح ہا ئو س حملہ کیس میں پی ٹی آئی کے 254 رہنما ئو ں اورکارکنوں پر فرد جرم عائد جناح ہا ئو س حملہ کیس میں پی ٹی آئی کے 254 رہنما ئو ں اورکارکنوں پر فرد جرم عائد اسنوکر میں پاکستان کی تاریخی فتح، بڑے ٹورنامنٹ میں بھارت کو دھول چٹادی بھارت کے وزیرِ خارجہ سے اب تک کوئی بات نہیں ہو رہی، وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ پچیس کروڑ کی آبادی کا پانی روکنا اعلان جنگ تصور کیا جائے گا: رضوان سعید شیخ بھارتی میڈیا کا پاکستان کو چین کی ذیلی ریاست ظاہر کرنے کا پروپیگنڈا بے نقاب آرمی چیف کا سیاسی قیادت کے اعزاز میں عشائیہ،نوجوانوں کو فولادی دیوار قرار دیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: بار ایسوسی ایشن سلمان اکرم راجا لاہور ہائیکورٹ
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔