امریکا اپنی مٹی پلید ہونے سے بچنے کی خاطر جنگ بندی کیلیے میدان میں آیا، وزیراعلیٰ سندھ
اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT
کراچی:
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ پاک افواج نے جب فرانسیسی طیارے اور اسرائیلی ڈرونز گرائے تو امریکا شاید اپنی مٹی پلید ہونے سے بچنے کیلیے ثالثی کیلیے کودا۔
کراچی کے آرٹس کونسل میں معقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ مجھے یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ جب بھارت جارحیت کررہا تھا تو امریکا نے اسے پاکستان اور بھارت کا آپسی مسئلہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ دس مئی کو بھارت نے پھر حملہ کیا تو پاکستان نے رسپانس دینے کا فیصلہ کیا، پاک فوج نے اجازت طلب کی اور ہماری افواج پاکستان نے بھرپور جواب دیا اور جس جس جگہ سے انہوں نے حملہ کیا پاکستان نے صرف انہی آرمی کیمپس کو نشانہ بنایا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ آپریشن بنیان مرصوص صرف تین گھنٹے جاری رہا اور پھر سوا آٹھ بجے امریکا سے کال آئی اور کہا کہ ہندوستان جنگ بندی کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ جنگ جب شروع ہوئی تو امریکا نے کہا کہ یہ ہمارا نہیں بلکہ دونوں ممالک کا آپس کا مسئلہ ہے، مجھے لگتا ہے فرانس کے جہاز گرے تو بھارت نے فرانس کو رسوا کروا دیا، پھر اسرائیل کے ڈرون بھیجے ہم نے وہ بھی گرا دیئے ۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ امریکا نے بھی جنگ کے دوران بھارت کو بہت کچھ دیا ہوا ہوگا، شاید اسی لیے امریکا کو بیچ میں جنگ بندی کرنے آنا پڑا کیونکہ انہیں لگتا تھا کہ کہیں ہماری بھی مٹی پلید نہ ہوجائے اور پھر جنگ بندی کروادی گئی۔
انہوں نے کہا کہ 1965 میں میں پیدا تو ہوگیا تھا لیکن مجھے یاد نہیں، ہاں 1971 کی جنگ بہت اچھے سے یاد ہے مجھے، اُس وقت خون کی ضرورت تھی اور ایک بچہ چلا گیا تھا، چونکہ خون کے لیے ایک وزن کی مقدار درکار ہوتی ہے اس کے لیے ایک بچے کا وزن کم تھا تو وہ 2,3 کلو کے پتھر جیب میں لے گیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس جنگ ہے بعد جذبہ ہم نے آج دیکھا، جب ہر میدان میں پاکستان نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ ابھی دو دن پہلے خضدار میں حملہ ہوا، بھارت نے اس پر کچھ نہیں کہا، جب وہاں حملہ ہوا ہم نے فوری اس پر اپنا بیان جاری کیا، 6 اور 7 مئی کو بھارت نے مساجد پر حملہ کیا، اس کے بعد ان کی فضائیہ نے جہاز اڑائے، پورا پاکستان جاگ رہا تھا، جب ان کے جہاز اڑے تو ایسا لگا کہ حالات نہ جانے کہاں جائیں گے، لیکن ہمارے شاہینوں نے زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور ہم نے ان کے رافیل گرا ڈالے جو ان کے بہت اچھے جہاز تھے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ جس طرح جنگ کے دوران اور بعد میں ہمارے ڈی جی آئی ایس پی آر نے میڈیا کو ہینڈل کیا اس کا جواب نہیں، ہر شخص نے ہر میدان میں اپنا کام سر انجام دیا۔
انہوں نے کہا کہ جب ہم سب متحد ہوئے تو کچھ گھنٹے بھی دشمن ہمارا مقابلہ نہیں کرسکا، ہم سمجھ رہے تھے کہ یوتھ ہماری بھارت سے پیچھے ہے، لیکن ہماری یوتھ نے بھی انہیں سوشل میڈیا پر شکست دی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ مجھے شہید ذوالفقار علی بھٹو کی تقریر یاد ہے، جب انہوں نے جنگ کے موقع پر بھارت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، کہ بھارت تم جنگ کا سوچنا بھی نہیں کیوں کہ ہمارا بچہ بچہ جنگ کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت کسی بھی طرح سے اپنی قوم کو مایوسی کا شکار نہیں ہونے دے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھارت نے جنگ کے کے لیے
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔