کراچی:

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ پاک افواج نے جب فرانسیسی طیارے اور اسرائیلی ڈرونز گرائے تو امریکا شاید اپنی مٹی پلید ہونے سے بچنے کیلیے ثالثی کیلیے کودا۔

کراچی کے آرٹس کونسل میں معقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ مجھے یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ جب بھارت جارحیت کررہا تھا تو امریکا نے اسے پاکستان اور بھارت کا آپسی مسئلہ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ دس مئی کو بھارت نے پھر حملہ کیا تو پاکستان نے رسپانس دینے کا فیصلہ کیا، پاک فوج نے اجازت طلب کی اور ہماری افواج پاکستان نے بھرپور جواب دیا اور جس جس جگہ سے انہوں نے حملہ کیا پاکستان نے صرف انہی آرمی کیمپس کو نشانہ بنایا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ آپریشن بنیان مرصوص صرف تین گھنٹے جاری رہا اور پھر سوا آٹھ بجے امریکا سے کال آئی اور کہا کہ ہندوستان جنگ بندی کے لیے تیار ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ یہ جنگ جب شروع ہوئی تو امریکا نے کہا کہ یہ ہمارا نہیں بلکہ دونوں ممالک کا آپس کا مسئلہ ہے، مجھے لگتا ہے فرانس کے جہاز گرے تو بھارت نے فرانس کو رسوا کروا دیا، پھر اسرائیل کے ڈرون بھیجے ہم نے وہ بھی گرا دیئے ۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ امریکا نے بھی جنگ کے دوران بھارت کو بہت کچھ دیا ہوا ہوگا، شاید اسی لیے امریکا کو بیچ میں جنگ بندی کرنے آنا پڑا کیونکہ انہیں لگتا تھا کہ کہیں ہماری بھی مٹی پلید نہ ہوجائے اور پھر جنگ بندی کروادی گئی۔

انہوں نے کہا کہ 1965 میں میں پیدا تو ہوگیا تھا لیکن مجھے یاد نہیں، ہاں 1971 کی جنگ بہت اچھے سے یاد ہے مجھے، اُس وقت خون کی ضرورت تھی اور ایک بچہ چلا گیا تھا، چونکہ خون کے لیے ایک وزن کی مقدار درکار ہوتی ہے اس کے لیے ایک بچے کا وزن کم تھا تو وہ 2,3 کلو کے پتھر جیب میں لے گیا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس جنگ ہے بعد جذبہ ہم نے آج دیکھا، جب ہر میدان میں پاکستان نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ 

مراد علی شاہ نے کہا کہ ابھی دو دن پہلے خضدار میں حملہ ہوا، بھارت نے اس پر کچھ نہیں کہا، جب وہاں حملہ ہوا ہم نے فوری اس پر اپنا بیان جاری کیا، 6 اور 7 مئی کو بھارت نے مساجد پر حملہ کیا، اس کے بعد ان کی فضائیہ نے جہاز اڑائے، پورا پاکستان جاگ رہا تھا، جب ان کے جہاز اڑے تو ایسا لگا کہ حالات نہ جانے کہاں جائیں گے، لیکن ہمارے شاہینوں نے زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور ہم نے ان کے رافیل گرا ڈالے جو ان کے بہت اچھے جہاز تھے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ جس طرح جنگ کے دوران اور بعد میں ہمارے ڈی جی آئی ایس پی آر نے میڈیا کو ہینڈل کیا اس کا جواب نہیں، ہر شخص نے ہر میدان میں اپنا کام سر انجام دیا۔

انہوں نے کہا کہ جب ہم سب متحد ہوئے تو کچھ گھنٹے بھی دشمن ہمارا مقابلہ نہیں کرسکا، ہم سمجھ رہے تھے کہ یوتھ ہماری بھارت سے پیچھے ہے، لیکن ہماری یوتھ نے بھی انہیں سوشل میڈیا پر شکست دی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ مجھے شہید ذوالفقار علی بھٹو کی تقریر یاد ہے، جب انہوں نے جنگ کے موقع پر بھارت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، کہ بھارت تم جنگ کا سوچنا بھی نہیں کیوں کہ ہمارا بچہ بچہ جنگ کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت کسی بھی طرح سے اپنی قوم کو مایوسی کا شکار نہیں ہونے دے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھارت نے جنگ کے کے لیے

پڑھیں:

گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ

​حال ہی میں لاہور ہائی کورٹ میں پنجاب پولیس کی جانب سے پیش کردہ ایک رپورٹ نے معاشرے میں کھلبلی مچا دی ہے۔ عدالتِ عالیہ میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، 2021 سے اب تک درج ہونے والے گمشدہ خواتین و لڑکیوں کے کیسز کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہے، جن میں سے اکثریت کے بارے میں پولیس کا مؤقف ہے کہ ان لڑکیوں نے اپنی مرضی سے شادی کر لی تھی۔ یہ خبر صرف عدالتی ریکارڈ کا حصہ نہیں، بلکہ ہمارے سماجی ڈھانچے میں موجود گہرے شگافوں کی عکاس ہے۔

رپورٹ کے مطابق 105,244 کیسز رجسٹر ہوئے، جن میں سے 103,351 حل کیے گئے۔ یہ اعداد و شمار بیک وقت اطمینان اور تشویش کا باعث ہیں۔ اطمینان اس لیے کہ بڑی تعداد میں کیسز حل ہوئے، مگر تشویش اس بات پر کہ آخر اتنی بڑی تعداد میں لڑکیاں اپنے گھر چھوڑنے پر کیوں مجبور ہوئیں؟

جب معاشرے میں 80 فیصد گمشدگیوں کی وجہ اپنی مرضی سے شادی قرار دی جاتی ہے، تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ گھر کے اندر موجود حالات اور سماجی دباؤ اس قدر شدید ہو چکے ہیں کہ نوجوان لڑکیاں گھر سے فرار کو ہی اپنی نجات سمجھتی ہیں۔

ہمارے معاشرے میں شادی کے معاملے پر لڑکی کی مرضی کو اکثر ثانوی حیثیت دی جاتی ہے۔ والدین کی خواہشات اور خاندانی وقار کے نام پر لڑکیوں کے جذبات کو کچلا جاتا ہے۔ جب ایک لڑکی کو لگتا ہے کہ اس کی بات سنی نہیں جائے گی، تو وہ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جاتی ہے۔

یہاں سوال یہ نہیں کہ کیا شادی کرنا غلط ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا معاشرہ لڑکیوں کو ان کے حقوق، تعلیم اور اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کی آزادی فراہم کر رہا ہے؟ جب یہ آزادی سلب کر لی جاتی ہے تو وہ گمشدگی کی رپورٹوں کے ذریعے منظر عام پر آتی ہے۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے اس معاملے پر جس برہمی کا اظہار کیا، وہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پولیس کا کردار محض کیس بند کرنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ عدالت نے درست کہا کہ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات کیے جاتے تو صورتحال مختلف ہوتی۔

اکثر کیسز میں پولیس کا کردار صرف تب فعال ہوتا ہے جب عدالت سے حکم جاری ہو۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ جب تک کوئی اغوا کا ایف آئی آر درج نہ ہو، تب تک پولیس اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیتی۔

اس سارے معاملے میں ایک پہلو والدین کا بھی ہے۔ اکثر والدین اپنی بیٹیوں پر اس قدر پابندیاں عائد کر دیتے ہیں کہ وہ نفسیاتی طور پر ٹوٹ جاتی ہیں۔ خاندانوں کے اندر مکالمے کی کمی اور ایک دوسرے پر عدم اعتماد اس بحران کو جنم دیتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کسی بھی لڑکی کا گھر چھوڑنا محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ ایک طویل عمل کا نتیجہ ہوتا ہے جو گھر کے چار دیواری کے اندر شروع ہوتا ہے۔

زیادہ تر اغوا کی ایف آئی آر درج کرانا اکثر اوقات خاندانی عزت بچانے کا ایک طریقہ بھی ہوتا ہے۔ جب والدین اپنی بیٹی کے پسند کی شادی کو تسلیم نہیں کر پاتے، تو وہ اسے اغوا کا نام دے دیتے ہیں۔ اس سے پولیس کا وقت ضائع ہوتا ہے اور حقیقی اغوا کے کیسز پر سے توجہ ہٹ جاتی ہے۔ عدالتی عمل کے دوران جب یہ سچ سامنے آتا ہے کہ لڑکی نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے، تو وہ کیس ختم کر دیا جاتا ہے، لیکن اس دوران جو سماجی و قانونی کشمکش پیدا ہوتی ہے، وہ خاندانوں کو ہمیشہ کے لیے تقسیم کر دیتی ہے۔

اس مسئلے کا حل صرف پولیس کی سختی یا عدالت کے احکامات میں نہیں، بلکہ ہمیں ایک وسیع تر سماجی بحث کی ضرورت ہے۔

خاندانوں میں مکالمہ: والدین کو اپنی بیٹیوں کے ساتھ دوستی کا رشتہ قائم کرنا چاہیے۔ان کی پسند و ناپسند کو اہمیت دینی چاہیے۔

​نفسیاتی مشاورت: تعلیمی اداروں اور کمیونٹی مراکز میں کونسلنگ کا اہتمام ہونا چاہیے تاکہ نوجوان اپنے جذبات کا صحیح اظہار کر سکیں۔

​پولیس کا پیشہ ورانہ رویہ: پولیس کو گمشدگی کے کیسز میں زیادہ حساسیت اور پیشہ ورانہ مہارت دکھانے کی ضرورت ہے۔

قانونی شعور: لڑکیوں کو ان کے قانونی حقوق سے آگاہ ہونا چاہیے تاکہ وہ کسی بھی غیر قانونی دباؤ کا شکار نہ ہوں۔

​لاہور ہائی کورٹ کے اس کیس نے ہمیں ایک آئینہ دکھایا ہے۔ اگر ہم اس آئینے میں دیکھ کر اپنی کوتاہیوں کا اعتراف نہیں کریں گے، تو یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

80 فیصد لڑکیوں کا اپنی مرضی سے شادی کرنا ہمارے نظام کی ناکامی نہیں، بلکہ ہمارے سماجی رویوں کی ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی اقدار کا ازسرِ نو جائزہ لیں اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں خواتین کی آواز، ان کی پسند اور ان کا وقار محفوظ ہو۔ عدالتی کارروائی اپنی جگہ، لیکن اصل تبدیلی ہمارے گھروں سے شروع ہوگی۔

​یہ ایک معاشرتی مسئلہ ہے جو قانون کے دائرے سے نکل کر ہمارے دلوں اور ذہنوں تک جاتا ہے۔ ہمیں ضرورت ہے کہ ہم لڑکیوں کو بوجھ نہیں، بلکہ ایک فرد سمجھیں جس کی اپنی زندگیاں اور خواب ہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

سیدہ سفینہ ملک

متعلقہ مضامین

  • دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
  • دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک  کیلیے وبال جان بن گئے
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو  ہونے کا اندیشہ
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو