اسلام آباد، پبلک ٹرانسپورٹ کا کرایہ 100 روپے مقرر، شہری پریشان
اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT
حکام کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی آپریشنل لاگت، ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور سروس کے معیار کو برقرار رکھنے کے لیے کرایوں میں نظرثانی ناگزیر تھی۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے شہریوں کے لیے میٹرو بس کا سفر مہنگا ہو گیا۔ 26 مئی 2025ء سے نئی کرایہ پالیسی نافذ کی جا رہی ہے جس کے تحت اورنج لائن، گرین لائن، بلیو لائن اور الیکٹرک فیڈر روٹس پر یکساں طور پر فی سفر کرایہ 100 روپے مقررکر دیا گیا ہے۔ پہلے مختلف روٹس پر کرایہ 50 سے 90 روپے کے درمیان تھا تاہم حکام کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی آپریشنل لاگت، ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور سروس کے معیار کو برقرار رکھنے کے لیے کرایوں میں نظرثانی ناگزیر تھی۔ شہریوں نے اس فیصلے پر مختلف آراء کا اظہار کیا ہے، کچھ نے اضافے کو معاشی بوجھ قرار دیا جبکہ دیگر نے بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے ضروری اقدام قرار دیا، حکام نے عوام سے تعاون کی اپیل کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔