وفاقی وزیر آبی وسائل کا لاہور میں تقریب سے خطاب میں کہنا تھا کہ ہم انڈس واٹر ٹریٹی کو استعمال کرتے ہوئے ہم معاملے کو بین الاقوامی سطح پر اٹھائیں گے، اس وقت تمام دریاوں میں پانی کا بہاو نارمل ہے، دریائے جہلم میں دو دن کیلئے پانی روکا گیا تھا، انڈیا کی نیت پاکستانی پانی پر ٹھیک نہیں اور وہ کوئی بھی انتہائی قدم اٹھا سکتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز اینڈ میڈیا ریسرچ کے زیراہتمام 'انڈس واٹر ٹریٹی کی معطلی کے پاکستان پر اثرات' کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ وفاقی وزیر آبی وسائل میاں معین وٹو، سابق وزیر خزانہ پنجاب محسن لغاری، سینئر صحافی مجیب الرحمن شامی، سینئر صحافی سہیل وڑائچ، چیئرمین آئی آئی آر ایم آر سید محمد مہدی سمیت آبی ماہرین نے شرکت کی۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے آبی وسائل میاں معین وٹو نے کہاکہ حکومت کو آبی معاملات سے متعلق مسائل کے حل کی فکر ہے۔ انڈس واٹر ٹریٹی ابھی تک موجود ہے، انڈس واٹر ٹریٹی پر بھارت نے دوہزار چوبیس میں خط لکھا کہ ٹریٹی پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے، انڈس ٹریٹی واٹر کمیشن کے تحت کسی بھی مسئلہ پر دونوں ملک مل بیٹھ کر بات کریں گے۔ انڈیا نے آٹھ اپریل کو خط لکھا کہ مسئلے کے حل کیلئے بیٹھنے کی ضرورت ہے، انڈیا یک طرفہ طور پر اس معاہدے کو معطل نہیں کر سکتا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم نے انڈیا کو لکھا ہے کہ آئیں مل بیٹھ کر بات کریں، انڈیا نے ابھی تک ہماری آفر کا جواب نہیں دیا ہے۔
 
وفاقی وزیر برائے آبی وسائل میاں معین وٹو نے کہا کہ پانی ہماری لائف لائن ہے اور اس مسئلے پر ہم کسی لچک کا مظاہرہ نہیں کریں گے، ہم انڈس واٹر ٹریٹی کو استعمال کرتے ہوئے ہم معاملے کو بین الاقوامی سطح پر اٹھائیں گے، اس وقت تمام دریاوں میں پانی کا بہاو نارمل ہے، دریائے جہلم میں دو دن کیلئے پانی روکا گیا تھا، انڈیا کی نیت پاکستانی پانی پر ٹھیک نہیں اور وہ کوئی بھی انتہائی قدم اٹھا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا ہم انڈیا کی آبی جارحیت کو روکنے کیلئے کسی بھی سطح تک جا سکتے ہیں، ہم اپنا حق استعمال کرنے میں حق بجانب بھی ہونگے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم صوبوں کے درمیان پانی کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے ایک ٹیکنیکل کمیٹی قائم کر رہے ہیں، ہم اتنا کمزور ملک نہیں کہ کسی بھی سطح پر اپنا دفاع نہ کر سکیں، ہمیں انڈیا کے ساتھ تنازعے میں ہر فورم پر فتح ہوئی ہے، انڈیا چاہے بھی تو اگلے دو سال تک ہمارا پانی نہیں روک سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہم پانی کے مسئلے کو ہنگامی بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
 
سینئر سیاستدان محسن لغاری نے کہا کہ آبی وسائل کے معاملات کو جوش کے بجائے ہوش سے آگے بڑھانا ہوگا، 1948 میں بھارت نے پاکستان کا پانی بند کر دیا، جس کے بعد انڈس واٹر ٹریٹی بنی۔ انڈس واٹر ٹریٹی ختم کرنا عالمی معاہدوں کیلئے خطرناک مثال ہوگی۔ سینئر صحافی مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے پانی کے علاوہ بھی کافی ایشوز حل طلب ہیں، پانی کا ایشو تو انڈس واٹر ٹریٹی کے بعد حل ہوگیا تھا، پھر سے حل ہوئے ایشوز کو دوبارہ جنم نہیں لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آئیڈیل تو دونوں ممالک کیلئے یہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی آبی جارحیت دونوں ممالک کیلئے مزید مشکلات پیدا کرے گی۔ سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے کہاکہ پانی کے مسائل پر پہلے اندرونی طور پر تمام معاملات کو حل کرنا ہوگا، جبکہ غداری کے فتوے دینا بند کرنا ہونگے، کسی کو دوسرے کی حب الوطنی پر شک نہیں ہونا چاہیے۔
 
ماہرین آبی امور کا کہنا تھاکہ پاکستان کو سمندر میں گرنے والے پانی کو استعمال میں لانے اشد ضرورت ہے، پانی کے مسئلے پر اندرونی معاملات کو فی الفور ختم ہونا چاہیے، بھارت ضائع ہونیوالے پانی کو جواز بنا کر استعمال کرنے کا دعویٰ دار بنتا ہے پاکستان کو انڈس واٹر ٹریٹی کا ایشو پر ہر عالمی فورم پر اٹھانا چاہیے۔ سیمینار میں چیئرمین انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز اینڈ میڈیا ریسرچ سید محمد مہدی، ایگزیکٹو ڈائریکٹر آئی آئی آر ایم آر یاسر حبیب خان، سینئر صحافی ذوالفقار مہتو، ڈائریکٹر ارسا امجد سعید سمیت دیگر نے اظہار خیال کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انڈس واٹر ٹریٹی میاں معین وٹو انہوں نے کہا سینئر صحافی وفاقی وزیر نے کہا کہ پانی کے

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی