فرانس میں ’شیطان‘ سرجن کے خلاف مقدمہ، آخری مرحلے میں داخل
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 26 مئی 2025ء) خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ملزم کے وکلاء آج پیر 26 مئی کو اپنے اختتامی دلائل دیں گے۔ جوئل لے اسکوارنیک یہ بات تسلیم کر چکے ہیں کہ 1989ء سے 2014ء کے دوران انہوں نے فرانس کے مغربی حصے کے ہسپتالوں میں 299 مریضوں کو جنسی زیادتی اور جنسی حملوں کا نشانہ بنایا، اور ان میں سے بہت سوں کو اس وقت جب وہ انیستھیزیا (آپریشن کے لیے دیا جانے والا نشہ) کے زیر اثر تھے یا پھر آپریشن کے بعد ہوش میں آنے کے عمل میں تھے۔
ان میں سے 256 مریض اُس وقت 15 برس سے کم عمر تھے۔فرانسیسی آئس اسکیٹنگ فیڈریشن، دہائیوں تک جاری رہنے والی جنسی زیادتیاں
فرانس: بیوی کے جنسی استحصال میں ملوث شخص کو 20 برس کی قید
استغاثہ کی طرف سے جمعہ 23 مئی کو عدالت سے استدعا کی گئی کہ اس ملزم کو زیادہ سے زیادہ 20 برس قید کی سزا سنائی جائے، ساتھ ہی یہ غیر معمولی مطالبہ بھی کیا گیا کہ رہائی کے بعد بھی ان سابق سرجن کو علاج کے مرکز اور نگرانی میں رکھا جائے۔
(جاری ہے)
'سفید کوٹ میں ملبوس شیطان‘وکیل استغاثہ اسٹیفان کیلنبرگر نے لے اسکوارنیک سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا، ''آپ ایک شیطان ہیں، اور وہ بعض اوقات سفید کوٹ میں ملبوس ہوتا ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ جنسی زیادتی یا تشدد کا نشانہ بننے والے ایسے مزید متاثرین کے معاملات پر ایک الگ مقدمہ قائم کیا جا سکتا ہے، جو اس موجودہ مقدمے کا حصہ نہیں ہیں۔
سرجن کے ایک وکیل میکسیمے ٹیسیے نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ان کے مؤکل 'قطعی قصور وار‘ ہیں اور وکلائے صفائی کی طرف سے ان کے جرائم کی نوعیت پر کوئی شک و شبہ پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی جائے گی، تاہم ان سابق سرجن کی طرف سے شرمساری اور اپنے متاثرین سے معافی مانگنا حقیقی عمل ہیں اور یہ کہ وہ جیل میں خود میں بہتری لانے کے عمل سے گزرے ہیں۔
بہت سے متاثرین کے وکلاء نے تاہم جوئل لے اسکوارنیک کی طرف سے معافی مانگنے کے پیچھے خلوص اور سچائی پر سوالات اٹھائے ہیں، جو انہوں نے کئی ہفتوں تک جاری رہنے والے مقدمے کی سماعت کے دوران ہمیشہ ایک ہی الفاظ میں دہرائی۔
ایک متاثرہ فرد کے وکیل کی طرف سے اس جانب دھیان دلانے کے ردعمل میں لے اسکوارنیک کا کہنا تھا، ''میں ایک اداکار نہیں ہوں۔
‘‘ مقدمے کا فیصلہ بدھ کو متوقعاے ایف پی کے مطابق فرانس کے مغربی علاقے برٹنی کے شہر وَن کی عدالت کی طرف سے اس مقدمے کا فیصلہ بدھ 28 مئی کو متوقع ہے۔ تاہم اس سے قبل وکلائے صفائی کی جانب سے عدالت کے سامنے اپنے دلائی پیش کیے جانا ہیں۔
اس مقدمے میں جوئل لے اسکوارنیک کے خلاف جنسی زیادہ کے 111 الزامات، جنسی حملوں کے 189 الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
ادارت: شکور رحیم
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کی طرف سے
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔