بنگلہ دیشی فوج نے کہا ہے کہ قومی مفاد سب سے مقدم ہے، ملکی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائےگا۔

ڈائریکٹوریٹ آف ملٹری آپریشنز کے ڈائریکٹر بریگیڈیئر جنرل محمد ناظم الدولہ نے پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ فوج ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ثابت قدم ہے۔

یہ بھی پڑھیں بھارت نے سلہٹ بارڈر پر مزید 153 افراد کو بنگلہ دیش میں دھکیل دیا

انہوں نے کہاکہ راہداری سے متعلق معاملات انتہائی حساس ہیں، میانمار کے ساتھ سرحدی صورت حال اس وقت پہلے سے کہیں زیادہ حساس ہے۔

’کوکی چن نیشنل فرنٹ‘ کے لیے 30 ہزار یونیفارم تیار کیے جانے کی رپورٹس پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ کوکی کمیونٹی کی آبادی 12 ہزار کے قریب ہے، تو پھر 30 ہزار یونیفارم کیوں تیار کیے جارہے ہیں، فوج اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے اور مکمل تحقیقات بھی کررہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ سرحد پار سے ہندوستان کی جانب سے لوگوں کو زبردستی بنگلہ دیش میں دھکیلنے جیسے اقدامات قابل قبول نہیں۔

انہوں نے کہاکہ اس وقت بارڈر گارڈ بنگلہ دیش صورت حال کو مؤثر طریقے سے سنبھال رہا ہے۔ تاہم ضرورت پڑنے پر یا حکومت کی طرف سے ہدایت کی صورت میں فوج مداخلت کے لیے تیار ہے۔

قبل ازیں بریفنگ میں ڈائریکٹوریٹ آف ملٹری آپریشنز کے کرنل محمد شفیق الاسلام نے گزشتہ 40 دنوں میں فوج کی حالیہ کارروائیوں کا جائزہ پیش کیا۔

انہوں نے زور دے کر کہاکہ ہجوم کی جانب سے تشدد کے واقعات اور سماجی تحفظ کے لیے خطرہ بننے والے افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

کرنل شفیق نے کہاکہ امن و امان کی مجموعی صورتحال مستحکم رہی ہے یا کچھ علاقوں میں ماضی کے مقابلے میں بہتری آئی ہے، تاہم امن و امان برقرار رکھنا صرف فوج کی ذمہ داری نہیں۔

یہ بھی پڑھیں بھارت کی جانب سے 300 سے زائد افراد کو بنگلہ دیش میں دھکیلنے پر تشویش کی لہر

انہوں نے کہاکہ اس کے لیے ایک مربوط کوشش کی ضرورت ہے جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور تمام متعلقہ اداروں کو شامل کیا جائے تاکہ مسلسل بہتری کو یقینی بنایا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بریگیڈیئر جنرل محمد ناظم الدولہ بنگلہ دیشی فوج قومی مفاد کوکی چن نیشنل فرنٹ ملکی خودمختاری وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بنگلہ دیشی فوج قومی مفاد کوکی چن نیشنل فرنٹ ملکی خودمختاری وی نیوز ملکی خودمختاری انہوں نے کہاکہ بنگلہ دیش کے لیے

پڑھیں:

آبنائے ہرمز اور باب المندب کا متبادل تیار کرنے میں دہائیاں لگیں گی، عرب ماہر

متبادل زمینی توانائی راہداریوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک، شام یا ترکیہ کے راستے مجوزہ پائپ لائن منصوبے طویل المدتی سرمایہ کاری کے متقاضی ہیں، جن کی تکمیل میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں، اس لیے وہ قلیل مدت میں موجودہ بحران کا حل فراہم نہیں کر سکتے۔ اسلام ٹائمز۔ ایک عرب ماہر معاشیات نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب کی بیک وقت بندش عالمی معیشت کو تباہ کر دے گی۔ ان دونوں آبنائے کا متبادل بنانے میں دہائیاں لگیں گی۔ بین الاقوامی معیشت کے معروف عرب ماہر ڈاکٹر کامل وزنة نے ایران میں جاری جنگ اور اہم سمندری گزرگاہوں، خصوصاً آبنائے ہرمز اور باب المندب کی ممکنہ بندش کے تباہ کن نتائج سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جنگ جاری رہی تو دنیا ایک ایسے حقیقی خطرے سے دوچار ہو جائے گی جو ہر فرد کی زندگی کو متاثر کرے گا اور عالمی منڈیوں کو مہنگائی کی ایک غیر معمولی لہر کی طرف دھکیل دے گا۔ ڈاکٹر کامل وزنة نے عربی ویب سائٹ عربی 21 سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ باب المندب کا فوجی کشیدگی کے دوسرے بڑے مرکز کے طور پر سامنے آنا عالمی منڈیوں میں استحکام کی بحالی اور معاشی بہتری کے عمل کو روک چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خام تیل کی قیمتیں بتدریج بڑھتے ہوئے 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں، اور اگر موجودہ کشیدگی برقرار رہی تو قیمتوں میں مزید اضافے کا خطرہ انتہائی سنگین ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اشیا اور توانائی کی ترسیل کے سمندری راستوں کی بندش دنیا بھر میں مہنگائی میں اضافے اور تمام ممالک کے معاشی مسائل میں شدت کا باعث بنے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب مسئلہ صرف ایک آبنائے کی بندش تک محدود نہیں رہا، بلکہ پوری کی پوری ریاستیں عالمی تجارت کے بہاؤ اور بنیادی وسائل تک رسائی سے محروم ہو رہی ہیں، جس کے باعث یہ وسائل عالمی منڈیوں تک نہیں پہنچ پا رہے۔ ڈاکٹر کامل وزنة نے خطے اور خصوصاً سعودی عرب پر اس بحران کے اثرات کے حوالے سے کہا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بحری آمدورفت متاثر ہونے سے خطے کے ممالک کی برآمدات اور صنعتی سرگرمیوں کو نقصان پہنچے گا، اگرچہ سعودی عرب کی معیشت نسبتاً مضبوط اور زیادہ لچکدار ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس بحران نے پورے خطے میں معاشی سست روی پیدا کر دی ہے، جس کے اثرات جائیداد کی مارکیٹ، روزگار، سرمایہ کاری کے مواقع اور بیرونِ ملک مقیم افراد کی ترسیلاتِ زر پر بھی پڑ رہے ہیں۔ ان کے مطابق کوئی بھی ملک اپنے علاقے یا اپنے ملک میں جاری جنگ سے فائدہ نہیں اٹھاتا، اسی لیے بحران کے خاتمے کے لیے جلد از جلد سیاسی حل تلاش کرنا ناگزیر ہے۔ ڈاکٹر کامل وزنة نے زور دے کر کہا کہ اگر یہ اہم سمندری گزرگاہیں بند رہیں تو عالمی معیشت کے پاس اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی فوری یا تیار متبادل موجود نہیں ہو گا۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا کے 20 سے 25 فیصد بنیادی وسائل اور توانائی کی ترسیل آبنائے ہرمز اور باب المندب کے ذریعے ہوتی ہے، اور عالمی اسٹاک مارکیٹیں بھی متعدد بار اس صورتحال کے ممکنہ نتائج سے خبردار کر چکی ہیں۔

متبادل زمینی توانائی راہداریوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک، شام یا ترکیہ کے راستے مجوزہ پائپ لائن منصوبے طویل المدتی سرمایہ کاری کے متقاضی ہیں، جن کی تکمیل میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں، اس لیے وہ قلیل مدت میں موجودہ بحران کا حل فراہم نہیں کر سکتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے منصوبوں کی کامیابی سیاسی استحکام سے مشروط ہوتی ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے روس اور جرمنی کے درمیان گیس پائپ لائن کی مثال دی، جو مکمل ہونے کے باوجود یوکرین جنگ کے بعد تخریب کاری کا نشانہ بنی اور دھماکے سے تباہ کر دی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • نفرت اور برادری کی سیاست ختم کر کے ترقی کو آگے بڑھانا ہوگا، وزیراعظم آزاد کشمیر
  • ایشین گیمز کرکٹ : پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا کو براہِ راست کوارٹر فائنل میں رسائی مل گئی
  • آبنائے ہرمز اور باب المندب کا متبادل تیار کرنے میں دہائیاں لگیں گی، عرب ماہر
  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • وزیرِ پیٹرولیم کی بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ