جس اتفاق و اتحاد کا مظاہرہ بھارت کیخلاف کیا گیا، معاشی محاذ پر بھی اس کی ضرورت ہے، وزیر خزانہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے کہاہے کہ جس طرح بھارتی جارحیت کے دوران اتقاق اور اتحاد کا مظاہرہ کیا گیا تھا، معاشی محاذ پربھی اسی اتفاق واتحاد کی ضرورت ہے، کوشش ہے بجٹ کو اسٹریٹیجک بنایا جائے جس میں ملک کی معاشی سمت موجود ہوں۔
کار انداز پاکستان اور پاکستان بینک ایسوسی ایشن کے زیراہتمام اسلام آباد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرخزانہ نے کہا کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران اندرون اوربیرون ممالک پاکستان کے دوطرفہ اورکثیرالجہتی شراکت داروں، دوست ممالک کے وزرائے خزانہ، اورسرمایہ کاروں سے ان کی ملاقاتیں ہوئیں۔
ان ملاقاتوں سے ہمیں دوواضح پیغامات ملے ہیں، پہلا یہ کہ دوطرفہ اورکثیرالجہتی شراکت دار، دوست ممالک کے وزرائے خزانہ، اورسرمایہ کارپاکستان کی اقتصادی ومعاشی بہتری اورکلی معیشت کے استحکام سے مطمئن ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ اقتصادی استحکام باالخصوص پالیسی ریٹ ومہنگائی میں کمی اورمعاشی اشاریوں میں بہتری کی رفتارکی بھی تعریف کررہے ہیں۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ ان کادوسراپیغام یہ ہے کہ پاکستان کوپالیسیوں کاتسلسل برقراررکھنا ہوگا، پاکستان نے گزشتہ برسوں اورگزشتہ دہائی میں بھی معاشی استحکام حاصل کیا تھا تاہم اسے برقرارنہیں رکھا جاسکا، ہمیں اب اتارچڑھاو کے چکرکوختم کرنا ہوگا،اس کیلئے ڈھانچہ جاتی اصلاحات کاعمل شروع کیا گیاہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس کے حوالہ سے لوگوں ، پراسیس اورٹیکنالوجی پرتوجہ دی جارہی ہے، ایف بی آر کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن کی جارہی ہے جس میں نجی شعبہ قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے۔پرال بورڈ کے چیئرمین اورزیادہ تراراکین کاتعلق نجی شعبہ سے ہے،ایف بی آر کی ٹرانسفرمیشن میں کارانداز کاکرداربھی قابل تعریف ہے۔
وزیرخزانہ نے کہاکہ شفافیت کویقینی بنانے اورٹیکس چوری کی روک تھام میں ڈیجیٹلایزیشن کاکرداراہمیت کاحامل ہے، اس کے ساتھ ساتھ ٹیکس کے عمل کوآسان بنانے پرتوجہ دی جارہی ہے، تنخواہ دارطبقہ کیلئے ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کوآسان بنایا جارہاہے۔
انہوں نے کہا کہ توانائی کے شعبہ میں اویس لغاری اورعلی پرویز ملک کام کررہے ہیں، ایس اوایز میں اصلاحات کاعمل بھی جاری ہے،24اداروں کو نجکاری کیلئے نجکاری کمیشن کے سپرد کردیا گیا ہے، یہ ایسا شعبہ ہے جس میں گزشتہ سال ہماری کارگردگی بہترنہیں رہی، مشیرمحمدعلی کی قیادت میں اس عمل کوتیز کیاجارہاہے، پی آئی اے کی نجکاری کاعمل دوبارہ شروع کیا گیاہے، تین ڈسکوز کی نجکاری ہورہی ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ وفاقی حکومت کی رائٹ سائزنگ کاعمل مرحلہ وارجاری ہے، پنشن اصلاحات پرعمل درآمد ہوچکا ہے، حکومت مالیاتی نظم وضبط لارہی ہے، جاری مالی سال کے دوران قرضوں کی واپسی میں ایک ٹریلین روپے کی کمی ہوئی ، آئندہ مالی سال کے دوران ڈیبٹ منیجمنٹ آفس کو جدید خطوط پراستوارکیا جائے گا۔اس کیلئے مختلف ماڈلز کاتجزیہ کیاجارہاہے۔
وزیرخزانہ نے کہاکہ یہ وہ اصلاحات ہیں جس سے ملکی معیشت کو پائیدار نموکی راہ پرگامزن کیا جاسکتا ہے، اس حوالہ سے بجٹ میں دلیرانہ فیصلے کئے جائیں گے، ہماری پوری کوشش ہے کہ بجٹ کی دستاویز کوحساب کتاب کی دستاویز کی بجائے تزویراتی بنایا جائے جس میں ملک کی معاشی سٹریٹجک سمت موجود ہوں۔
انہوں نے کہاکہ ہماری جی ڈی پی 400ارب ڈالرسے تجاوزکرگئی ہے ، مستقبل کے اہداف کے حصول میں بڑھتی ہوئی آبادی اورموسمیاتی تبدیلیاں دوبڑی رکاوٹیں ہیں، موسمیاتی تبدیلیاں تیزی سے رونماہورہی ہے، اس حوالہ سے ہم نے عالمی بینک اورآئی ایم ایف سے بات کی ہے اوران سے کہاہے کہ ہمیں بنیادی ڈھانچہ کیلئے معاونت کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اڈاپٹیشن فنانسنگ پران سے بات کی، عالمی بینک کے 10سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک میں 6میں سے 4 نکات بڑھتی ہوئی آبادی اورموسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق ہیں، ان دوامورکوہم نے ترجیحی حیثیت دی ہے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان کی مسلح افواج اورسیاسی قیادت نے حالیہ بھارتی جارحیت کابھرپورمقابلہ کیاہے، پوری قوم نے پاکستان کی فتح پرخوشی کااظہارکیا، ہم نے تنائوکے ماحول میں بھی ان امورکو آگے بڑھایاہے۔
وزیرخزانہ نے کہاکہ صحت اورتعلیم کے شعبہ کوآگے بڑھانے میں کارپوریٹ شعبہ نے کرداراداکیاہے، اس حوالہ سے مسائل کے حل کی طرف جانا ہوگا،ترقیاتی مالیاتی اداروں کو بھی اس ضمن میں اپناکرداراداکرناہوگا۔
انہوں نے کہاکہ ملک تب ترقی کرے گا جب ٹیکس کے اہل افراد اپنا ٹیکس بروقت اداکریں گے، جس طرح بھارتی جارحیت کے دوران اتقاق اوراتحاد کامظاہرہ کیاگیاتھا ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشی محاذ پربھی اسی اتفاق واتحاد کامظاہرہ کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وزیرخزانہ نے کہا انہوں نے کہا خزانہ نے کہا نے کہا کہ کے دوران حوالہ سے نے کہاکہ بھی اس
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز