وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے کہاہے کہ جس طرح بھارتی جارحیت کے دوران اتقاق اور اتحاد کا مظاہرہ کیا گیا تھا، معاشی محاذ پربھی اسی اتفاق واتحاد کی ضرورت ہے، کوشش ہے بجٹ کو اسٹریٹیجک بنایا جائے جس میں ملک کی معاشی سمت موجود ہوں۔

کار انداز پاکستان اور پاکستان بینک ایسوسی ایشن کے زیراہتمام اسلام آباد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرخزانہ نے کہا کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران اندرون اوربیرون ممالک پاکستان کے دوطرفہ اورکثیرالجہتی شراکت داروں، دوست ممالک کے وزرائے خزانہ، اورسرمایہ کاروں سے ان کی ملاقاتیں ہوئیں۔

ان ملاقاتوں سے ہمیں دوواضح پیغامات ملے ہیں، پہلا یہ کہ دوطرفہ اورکثیرالجہتی شراکت دار، دوست ممالک کے وزرائے خزانہ، اورسرمایہ کارپاکستان کی اقتصادی ومعاشی بہتری اورکلی معیشت کے استحکام سے مطمئن ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اقتصادی استحکام باالخصوص پالیسی ریٹ ومہنگائی میں کمی اورمعاشی اشاریوں میں بہتری کی رفتارکی بھی تعریف کررہے ہیں۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ان کادوسراپیغام یہ ہے کہ پاکستان کوپالیسیوں کاتسلسل برقراررکھنا ہوگا، پاکستان نے گزشتہ برسوں اورگزشتہ دہائی میں بھی معاشی استحکام حاصل کیا تھا تاہم اسے برقرارنہیں رکھا جاسکا، ہمیں اب اتارچڑھاو کے چکرکوختم کرنا ہوگا،اس کیلئے ڈھانچہ جاتی اصلاحات کاعمل شروع کیا گیاہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس کے حوالہ سے لوگوں ، پراسیس اورٹیکنالوجی پرتوجہ دی جارہی ہے، ایف بی آر کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن کی جارہی ہے جس میں نجی شعبہ قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے۔پرال بورڈ کے چیئرمین اورزیادہ تراراکین کاتعلق نجی شعبہ سے ہے،ایف بی آر کی ٹرانسفرمیشن میں کارانداز کاکرداربھی قابل تعریف ہے۔

وزیرخزانہ نے کہاکہ شفافیت کویقینی بنانے اورٹیکس چوری کی روک تھام میں ڈیجیٹلایزیشن کاکرداراہمیت کاحامل ہے، اس کے ساتھ ساتھ ٹیکس کے عمل کوآسان بنانے پرتوجہ دی جارہی ہے، تنخواہ دارطبقہ کیلئے ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کوآسان بنایا جارہاہے۔

انہوں نے کہا کہ توانائی کے شعبہ میں اویس لغاری اورعلی پرویز ملک کام کررہے ہیں، ایس اوایز میں اصلاحات کاعمل بھی جاری ہے،24اداروں کو نجکاری کیلئے نجکاری کمیشن کے سپرد کردیا گیا ہے، یہ ایسا شعبہ ہے جس میں گزشتہ سال ہماری کارگردگی بہترنہیں رہی، مشیرمحمدعلی کی قیادت میں اس عمل کوتیز کیاجارہاہے، پی آئی اے کی نجکاری کاعمل دوبارہ شروع کیا گیاہے، تین ڈسکوز کی نجکاری ہورہی ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ وفاقی حکومت کی رائٹ سائزنگ کاعمل مرحلہ وارجاری ہے، پنشن اصلاحات پرعمل درآمد ہوچکا ہے، حکومت مالیاتی نظم وضبط لارہی ہے، جاری مالی سال کے دوران قرضوں کی واپسی میں ایک ٹریلین روپے کی کمی ہوئی ، آئندہ مالی سال کے دوران ڈیبٹ منیجمنٹ آفس کو جدید خطوط پراستوارکیا جائے گا۔اس کیلئے مختلف ماڈلز کاتجزیہ کیاجارہاہے۔

وزیرخزانہ نے کہاکہ یہ وہ اصلاحات ہیں جس سے ملکی معیشت کو پائیدار نموکی راہ پرگامزن کیا جاسکتا ہے، اس حوالہ سے بجٹ میں دلیرانہ فیصلے کئے جائیں گے، ہماری پوری کوشش ہے کہ بجٹ کی دستاویز کوحساب کتاب کی دستاویز کی بجائے تزویراتی بنایا جائے جس میں ملک کی معاشی سٹریٹجک سمت موجود ہوں۔

انہوں نے کہاکہ ہماری جی ڈی پی 400ارب ڈالرسے تجاوزکرگئی ہے ، مستقبل کے اہداف کے حصول میں بڑھتی ہوئی آبادی اورموسمیاتی تبدیلیاں دوبڑی رکاوٹیں ہیں، موسمیاتی تبدیلیاں تیزی سے رونماہورہی ہے، اس حوالہ سے ہم نے عالمی بینک اورآئی ایم ایف سے بات کی ہے اوران سے کہاہے کہ ہمیں بنیادی ڈھانچہ کیلئے معاونت کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اڈاپٹیشن فنانسنگ پران سے بات کی، عالمی بینک کے 10سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک میں 6میں سے 4 نکات بڑھتی ہوئی آبادی اورموسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق ہیں، ان دوامورکوہم نے ترجیحی حیثیت دی ہے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان کی مسلح افواج اورسیاسی قیادت نے حالیہ بھارتی جارحیت کابھرپورمقابلہ کیاہے، پوری قوم نے پاکستان کی فتح پرخوشی کااظہارکیا، ہم نے تنائوکے ماحول میں بھی ان امورکو آگے بڑھایاہے۔

وزیرخزانہ نے کہاکہ صحت اورتعلیم کے شعبہ کوآگے بڑھانے میں کارپوریٹ شعبہ نے کرداراداکیاہے، اس حوالہ سے مسائل کے حل کی طرف جانا ہوگا،ترقیاتی مالیاتی اداروں کو بھی اس ضمن میں اپناکرداراداکرناہوگا۔

انہوں نے کہاکہ ملک تب ترقی کرے گا جب ٹیکس کے اہل افراد اپنا ٹیکس بروقت اداکریں گے، جس طرح بھارتی جارحیت کے دوران اتقاق اوراتحاد کامظاہرہ کیاگیاتھا ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشی محاذ پربھی اسی اتفاق واتحاد کامظاہرہ کیا جائے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: وزیرخزانہ نے کہا انہوں نے کہا خزانہ نے کہا نے کہا کہ کے دوران حوالہ سے نے کہاکہ بھی اس

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • وزیرِ پیٹرولیم کی بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی