کراچی میں ڈکیتی مزاحمت کے دوران فائرنگ کی زد میں آکر 10 سالہ بچی جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
کراچی کے علاقے کورنگی میں ڈاکو اور شہری کے درمیان فائرنگ کے مقابلے کی زد میں چار سالہ بچی گولیوں کی زد میں آکر جاں بحق ہوگئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق شہر قائد کے علاقے ڈسٹرکٹ کورنگی میں ڈاکو راج کسی بھی صورت قابو میں آنے کا نام ہی نہیں لے رہا ، کورنگی کلو چوک کے قریب شہری اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں کمسن بچی ڈاکوؤں کی گولی لگنے سے جاں بحق ہوگئی۔
واقعے کے بعد علاقہ مکینوں میں شدید اشتعال پھیل گیا اور انھوں نے ٹائروں کو نذر آتش کر کے سڑک بلاک کردی اور پولیس کے خلاف نعرے لگائے اس موقع پر مشتعل افراد نے ڈسٹرکٹ کورنگی پولیس کے افسران کی ناقص کارکردگی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
کورنگی کے علاقے 4 نمبر کلو چوک کے قریب فائرنگ سے 11 سالہ عارفہ دختر وقار جاں بحق ہوگئی۔ اس حوالے سے ایس ایچ او عوامی کالونی کا کہنا ہے کہ 2 ڈاکو شہری سے اس کی موٹر سائیکل چھین رہے تھے کہ شہری کی جانب سے مزاحمت کی گئی اور اس نے اپنے پاس موجود پستول سے ڈاکوؤں پر فائرنگ کر دی جس کے جواب میں ڈاکوؤں کی جانب سے بھی فائرنگ کی گئی اور اس تبادلے میں ڈکوؤں کی فائرنگ سے کمسن عارفہ گولی لگنے سے جاں بحق ہوگئی جو کہ اسی علاقے کی رہائشی تھی۔
واقعے کے بعد مقتولہ کے اہلخانہ اور علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد نے بچی کی لاش کے ہمراہ احتجاج کرتے ہوئے پولیس کی ناقص کارکردگی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اپنے غم و غصے کا اظہار کیا جبکہ ٹائروں کو نذر آتش کر کے ٹریفک معطل کر دیا جس کے باعث گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں۔
اس موقع پر مظاہرین کا کہنا تھا کہ گورنر سندھ کے آنے تک احتجاج جاری رہیگا ، پولیس جھوٹے وعدے کر کے چلی جاتی ہے ، احتجاج کے باعث کورنگی 4 نمبر سے 5 نمبر جانے والی سڑک پر ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہونے سے گاڑیوں قطاریں لگ گئیں جس کی وجہ عام شہریوں کو بھی شدید مشکلات اور دقت کا سامنا کرنا پڑا۔
احتجاج کی اطلاع پر پولیس افسران بھی موقع پر پہنچ گئے اور ملزمان کو گرفتار کرنے کی یقین دہانی کرائی جس کے بعد مظاہرین نے احتجاج ختم کر دیا اور مقتولہ عارفہ کی لاش کو ضابطے کی کارروائی کے لیے جناح اسپتال لیجایا گیا اور پھر قانونی کارروائی کے بعد لاش لواحقین کے سپرد کردی گئی۔
حالیہ واقعے کے بعد رواں سال ڈاکوؤں کی فائرنگ کا نشانہ بن کر جاں بحق والوں کی مجموعی تعداد 48 ہوگئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جاں بحق ہوگئی ڈاکوو ں کے بعد
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔