روس، چین کا چاند پر پاور پلانٹ تعمیر کرنے کا منصوبہ، پاکستان کو بھی شرکت کی دعوت
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
روس اور چین نے چاند پر ایک مشترکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جس میں پاکستان سمیت متعدد ممالک کو اس منصوبے کا حصہ بننے کی دعوت دی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس منصوبے میں کمانڈ سینٹر، مواصلاتی نظام، سائنسی تجربہ گاہیں اور توانائی کی ترسیل کے لیے پائپ لائنز اور کیبلز شامل ہوں گے۔ روس اور چین نے اس منصوبے میں 17 دیگر ممالک کو بھی شرکت کی دعوت دی ہے جن میں پاکستان، مصر، وینزویلا، اور جنوبی افریقہ بھی شامل ہیں۔
یہ منصوبہ 2033 سے 2035 کے درمیان مکمل کیا جائے گا۔ یہ منصوبہ دونوں ممالک کے "انٹرنیشنل لونر ریسرچ اسٹیشن" (آئی ایل آر ایس) کا حصہ ہے جس کا مقصد چاند کے جنوبی قطب پر ایک مستقل تجربہ گاہ قائم کرنا ہے۔
تفصیلات کے مطابق یہ پلانٹ چاند پر مستقبل کی انسانی آبادکاری اور سائنسی تحقیق کے لیے مستقل توانائی فراہم کرے گا خاص طور پر چاند کی طویل راتوں کے دوران جب شمسی توانائی دستیاب نہیں ہوتی۔
پلانٹ کی تعمیر مکمل طور پر روبوٹک اور خودکار نظام کے ذریعے کی جائے گی تاکہ انسانی موجودگی کے بغیر اسے مکمل کیا جا سکے۔
چین نے واضح کیا ہے کہ آئی ایل آر ایس ایک بین الاقوامی سائنسی تعاون کا منصوبہ ہے۔ چین کا چانگے-8 مشن 2028 میں چاند پر بھیجا جائے گا جو منصوبے کی بنیاد رکھنے میں مدد دے گا جبکہ روس روس ایک نیوکلیئر توانائی سے چلنے والا "space tug" تیار کر رہا ہے جو چاند پر سامان کی ترسیل اور مداروں کے درمیان کارگو منتقل کرنے کے لیے استعمال ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چاند پر
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔