روس اور چین نے چاند پر ایک مشترکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جس میں پاکستان سمیت متعدد ممالک کو اس منصوبے کا حصہ بننے کی دعوت دی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس منصوبے میں کمانڈ سینٹر، مواصلاتی نظام، سائنسی تجربہ گاہیں اور توانائی کی ترسیل کے لیے پائپ لائنز اور کیبلز شامل ہوں گے۔ روس اور چین نے اس منصوبے میں 17 دیگر ممالک کو بھی شرکت کی دعوت دی ہے جن میں پاکستان، مصر، وینزویلا، اور جنوبی افریقہ بھی شامل ہیں۔

یہ منصوبہ 2033 سے 2035 کے درمیان مکمل کیا جائے گا۔ یہ منصوبہ دونوں ممالک کے "انٹرنیشنل لونر ریسرچ اسٹیشن" (آئی ایل آر ایس) کا حصہ ہے جس کا مقصد چاند کے جنوبی قطب پر ایک مستقل تجربہ گاہ قائم کرنا ہے۔

تفصیلات کے مطابق یہ پلانٹ چاند پر مستقبل کی انسانی آبادکاری اور سائنسی تحقیق کے لیے مستقل توانائی فراہم کرے گا خاص طور پر چاند کی طویل راتوں کے دوران جب شمسی توانائی دستیاب نہیں ہوتی۔

پلانٹ کی تعمیر مکمل طور پر روبوٹک اور خودکار نظام کے ذریعے کی جائے گی تاکہ انسانی موجودگی کے بغیر اسے مکمل کیا جا سکے۔

چین نے واضح کیا ہے کہ آئی ایل آر ایس ایک بین الاقوامی سائنسی تعاون کا منصوبہ ہے۔ چین کا چانگے-8 مشن 2028 میں چاند پر بھیجا جائے گا جو منصوبے کی بنیاد رکھنے میں مدد دے گا جبکہ روس روس ایک نیوکلیئر توانائی سے چلنے والا "space tug" تیار کر رہا ہے جو چاند پر سامان کی ترسیل اور مداروں کے درمیان کارگو منتقل کرنے کے لیے استعمال ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: چاند پر

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی