ماضی میں کسی جج کی ہائیکورٹ میں مستقل ٹرانسفر کی کوئی مثال نہیں،صرف عبوری ٹرانسفر ہو سکتی ہے،وکیل صلاح الدین
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ آئینی بنچ میں اسلام آباد ہائیکورٹ ججز ٹرانسفر کیس میں ججز کے وکیل صلاح الدین نے جواب الجواب دلائل دیتے ہوئے کہاکہ ماضی میں کسی جج کی ہائیکورٹ میں مستقل ٹرانسفر کی کوئی مثال نہیں،آرٹیکل 200کے تحت جج کی صرف عبوری ٹرانسفر ہو سکتی ہے،مستقل تقرری صرف جوڈیشل کمیشن ہی کرسکتا ہے۔
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں اسلام آباد ہائیکورٹ ججز ٹرانسفر کیس کی سماعت ہوئی،جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 5رکنی بنچ نے سماعت کی،ہائیکورٹ کے 5ججز کے وکیل صلاح الدین نے جواب الجواب دلائل دیتے ہوئے کہاکہ جج کے تبادلے سے اس ہائیکورٹ کی سیٹ خالی نہیں ہو سکتی، جج کے مستقل ٹرانسفر سے آرٹیکل 175 اے غیرموثر ہو جائے گا، ماضی میں کسی جج کی ہائیکورٹ میں مستقل ٹرانسفر کی کوئی مثال نہیں،آرٹیکل 200کے تحت جج کی صرف عبوری ٹرانسفر ہو سکتی ہے،مستقل تقرری صرف جوڈیشل کمیشن ہی کرسکتا ہے۔
سبی کے قریب مسافر کوچ کھائی میں جا گری،4مسافر جاں بحق،40زخمی
جسٹس محمد علی مظہر نے کہاکہ آرٹیکل 175اے کے تحت نئی تقرری ہو سکتی ہے،نئی تقرری اور تبادلے کے معنی الگ الگ ہیں،صلاح الدین ایڈووکیٹ نے کہاکہ جج ٹرانسفر کیلئے بامعنی مشاورت ہونی چاہئے،بامعنی مشاورت کے بغیر تبادلے کا سارا عمل محض دکھاوا ہے،یہاں معلومات کو چھپایا گیا اور غلط معلومات دی گئیں،جسٹس محمدعلی مظہر نے کہاکہ عدالت کے سامنے آئینی و قانونی نکتے کی تشریح کامعاملہ ہے،تبادلے کے معاملے میں 3چیف جسٹسز شامل تھے،ہر چیز ایگزیکٹو کے ہاتھ میں نہیں تھی،تبادلے پر جج سے رضامندی بھی لی جاتی ہے۔
گنڈاپور کے اہم پیغام کے باوجود عمران خان نے مذاکرات کا راستہ چننے سے انکار کر دیا
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کی ہائیکورٹ ٹرانسفر کی ہو سکتی ہے ا رٹیکل
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔