بنگلادیش: جماعت اسلامی کے اہم رہنما کی سزائے موت کالعدم ، رہائی کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
ڈھاکہ: بنگلادیشی سپریم کورٹ نے جماعت اسلامی بنگلادیش کے رہنما اظہرالاسلام کی سزائے موت کالعدم قرار دے کر رہائی کاحکم دے دیا۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کےمطابق عدالت نے سزائے موت کےقیدی اظہر الاسلام کو انسانیت کے خلاف جرم سے بری کردیا۔
اظہر الاسلام 2012سےقید میں تھے، انہیں گزشتہ سال حسینہ واجد حکومت کے دور میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔
اظہرا الاسلام ان 6 سیاستدانوں میں سے ایک ہیں جنہیں حسینہ واجد حکومت کے دور حکومت میں سزائے موت سنائی گئی تھی، ان افراد میں سے جماعت اسلامی کے 4 اور بنگلا دیش نیشنل پارٹی کے ایک رہنما کو گزشتہ دور حکومت میں سزائے موت دی جاچکی ہے۔
اظہر الاسلام کے وکیل کے مطابق وہ خوش قسمت ہیں کہ انہیں اب تک سزائے موت نہیں دی گئی تھی، انہیں اسی وجہ سے انصاف ملا کیونکہ وہ اب تک زندہ ہین۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سزائے موت
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔