ایک انچ زمین بھی کسی کو نہیں دینگے، شیخ احمد ترابی
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
اسلامی تحریک سکرود کے جنرل سیکرٹری نے ایک بیان میں کہا کہ بلتستان کے تمام سٹیک ہولڈرز، تمام مکاتب کے علماء کرام، وکلاء برادری اور انجمن امامیہ بلتستان نے لینڈ ریفام بل کے حوالے سے جو مسودہ تیار کر کے صوبائی حکومت کے حوالے کیا تھا اس کے علاؤہ دوسرا کوئی بل منظور نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی تحریک سکردو کے جنرل سیکرٹری شیخ احمد ترابی نے کہا ہے کہ بلتستان کے تمام سٹیک ہولڈرز، تمام مکاتب کے علماء کرام، وکلاء برادری اور انجمن امامیہ بلتستان نے لینڈ ریفام بل کے حوالے سے جو مسودہ تیار کر کے صوبائی حکومت کے حوالے کیا تھا اس کے علاؤہ دوسرا کوئی بل منظور نہیں، ایک انچ کسی کو دینے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔پہاڑ کی چوٹی سے لیکر دریا کی تہہ تک گلگت بلتستان کے عوام کی ملکیت ہیں۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ لینڈ ریفارمز کی رو سے اگر ہم پہاڑ دریا کے مالک بن چکے ہیں تو دنیور میں دس سال پہلے سرکار کو بارہ سو کنال زمین میڈکل کالج بنانے کے لئے دی تھی مگر اس زمین پر میڈکل کالج نہیں بنا ہے، لہذا اگر وہ واپس عوام کو مل جائے تو ہم کامیاب ہیں۔ مقپون داس واپس عوام کو مل جائے تو ہم کامیاب ہیں، اس طرح سٹی پارک سکردو، اولڈینگ ننگ ژھوق اور گمبہ گرونگ کی ملکیت ہے۔ 40 سال کی لیز پر سرکار کو دیا ہوا تھا وہ چالیس سال کی مدت بھی پوری ہو گئی ہے، لہذا وہ بھی الڈینگ ننگ ژھوق اور گمبہ گڑونگ کو واپس مل جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم اپنی زمین، پہاڑ، دریاؤں کے مالک بن گئے ہیں۔ ورنہ بل ڈرامے کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے حوالے
پڑھیں:
نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللّٰہ نے کہا ہے کہ نواز شریف گلگت بلتستان کے الیکشن کمیشن سے این او سی لیکر وہاں گئے تھے، کوئی حکومتی وزیر گلگت بلتستان نہیں گیا نہ کسی نے وہاں مہم چلائی۔
پروگرام آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ میں بات کرتے ہوئے رانا ثنا اللّٰہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین گوہر خان گلگت بلتستان میں جلسے کر رہے ہیں، میٹنگز کر رہے ہیں انہیں تو کوئی نہیں روک رہا۔
رانا ثنا نے کہا کہ اگر بیرسٹر گوہر خان اجازت لیکر جا سکتے ہیں تو سلمان اکرام راجا کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی کا کوئی اُمیدوار مقابلے میں ہے ہی نہیں، وہاں صاف، شفاف اور کریڈیبل انتخابات ہونگے۔