مودی کو شکست نے حواس باختہ کردیا ہے، مودی کی فرسٹریشن بھارت کو مزید تباہ کرے گی، لیاقت بلوچ
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
ملتان میں ملی یکجہتی کونسل کے زیراہتمام منعقدہ دفاع پاکستان سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ملی یکجہتی کونسل کے جنرل سیکرٹری کا کہنا تھا کہ کہ امریکہ کو احساس ہو جانا چاہیے کہ انڈیا اور اسرائیل کی سرپرستی ناجائز ہے، اسرائیل کے ناجائز وجود کو تسلیم کرانے کے لیے ٹرمپ 2 ارب مسلمانوں کی ناراضگی اور نفرت کی تجارت نہ کریں، اسرائیل کا غزہ پر ناجائز قبضہ اسرائیل کے ناجائز وجود کو اور زیادہ متنازع بنادے گا۔ اسلام ٹائمز۔ جنرل سیکرٹری ملی یکجہتی کونسل پاکستان و نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہا کہ پاکستان کے وجود پر حملہ ہوا جس کا افواج پاکستان نے منہ توڑ جواب دیا، مودی جو اسرائیل کے ساتھ مل کر جھوٹا پروپیگینڈا پھیلا رہا تھا اس میں ناکام ہوا، نریندر مودی کو شکست نے حواس باختہ کردیا ہے، مودی کی فرسٹریشن بھارت کو مزید تباہ کرے گی، بھارت جِس بدترین شکست سے دوچار ہوا، اِس سے عالمی، علاقائی اور ملکی اندرونی محاذ پر اس کا غرور اور بالادستی کا ڈھونگ چکنا چور ہوگیا ہے، بھارتی اقلیتوں بالخصوص مساجد، مدارس کی مسماری، اذان جیسے پرامن مقدس دینی عمل پر پابندی نے اسے اللہ کے غیض و غضب کا شکار کرکے نشانِ عبرت بنایا ہے، مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھی حقِ خودارادیت کے حصول کی تحریک نئے دور میں داخل ہوگی، بیرونِ ملک دوروں کے لیے تشکیل دیے گئے وفود کو مضبوط قومی حکمتِ عملی اور بیانیہ سے مسلح کیا جائے تاکہ دنیا کے سامنے پاکستان کا مقدمہ پوری جرآت اور دلائل کی طاقت کیساتھ پیش کیا جاسکے بیرونی دورے پاکستان کے لیے مفید ہونگے، بھارتی چہرہ بے نقاب ہوگا۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار ملی یکجہتی کونسل جنوبی پنجاب کے زیراہتمام منعقدہ دفاع پاکستان سیمینار کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر قاری حنیف جالندھری صدر وفاق المدارس پاکستان، ثنااللہ سہرانی جنرل سیکرٹری جماعت اسلامی جنوبی پنجاب، صہیب عمار صدیقی امیر جماعت اسلامی ملتان، محمد ایوب مغل جنرل سیکرٹری ملی یکجہتی کونسل جنوبی پنجاب، رہنما اہلحدیث یوتھ فورس ضلع ملتان کے صدر قاری ہدایت اللہ رحمانی، بشارت عباس قریشی، فضل حبیب ہارونی، یونس سیالوی، خالد فاروقی، علامہ طارق ہاشمی، علامہ عبدالمجید، سلیم صدیقی، اشفاق سعیدی، عبد الحق مجاہد، مجاہد عباس گردیزی، مفتی ممتاز، راو عارف رضوی، رفیع رضا ایڈووکیٹ اور دیگر علماکرام موجود تھے۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ بھارتی جارحانہ، توہین آمیز، آمرانہ اقدامات کے مقابلہ میں پاکستان کے اقدامات جرآت مندانہ ہیں، بھارت انسانی اور منشیات کی سمگلنگ کا سب سے بڑا مرکز ہے، بھارتی ٹریول ایجنسیز مالکان/سفارت کاروں کو انسانی اسمگلنگ میں ملوث قرار دے کر یہ بات اب خود امریکہ نے بھی تسلیم کرلی ہے، انڈیا امریکہ کو بند، مایوسی کی آنکھیں دِکھا رہا ہے۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ امریکہ کو احساس ہوجانا چاہیے کہ انڈیا اور اسرائیل کی سرپرستی ناجائز ہے، اسرائیل کے ناجائز وجود کو تسلیم کرانے کے لیے ٹرمپ 2 ارب مسلمانوں کی ناراضگی اور نفرت کی تجارت نہ کریں، اسرائیل کا غزہ پر ناجائز قبضہ اسرائیل کے ناجائز وجود کو اور زیادہ متنازع بنادے گا، فلسطین اور جموں و کشمیر کی آزادی سے دنیا میں امن آئے گا اور آزاد ممالک کی آزادی کے تحفظ کو تقویت ملے گی، انڈیا مکار دشمن ہے نریندر مودی زخمی ہیں اور اس کی سیاست ڈوب رہی ہے اب پہلگام کے واقعہ کے بعد پاکستان پر حملے کی صورت میں انڈیا کو ذلت کا سامنا کرنا پڑا ہے اور ہم یہ سمجھیں کہ وہ آرام سے برداشت کر لے گا تو یہ ہماری غلط فہمی ہے، اسی لیے آپ دیکھیں کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے معاملات تیز کر دئیے گئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسرائیل کے ناجائز وجود کو ملی یکجہتی کونسل جنرل سیکرٹری لیاقت بلوچ کے لیے
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔