12 سالہ بچے کو عمر قید کی سزا کا اسرائیلی قانون، اقوام متحدہ کا اظہار تشویش
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
اقوام متحدہ نے اسرائیل کے اس متنازع قانون پر شدید تشویش ظاہر کی ہے جس کے تحت 12 سال کے بچوں کو بھی عمر قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے ماہرین نے اس قانون کو اقوام متحدہ کے بچوں کے حقوق کے کنونشن کی ممکنہ سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے، جسے اسرائیل نے 1991 میں تسلیم کیا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نومبر 2024 میں اسرائیلی پارلیمنٹ "کنیسٹ" نے انسداد دہشتگردی قانون میں ترمیم کی، جس کے بعد کسی بھی 12 سالہ بچے کو اگر وہ قتل یا اقدام قتل جیسے جرم میں ملوث ہو، اور وہ جرم دہشتگردی کے زمرے میں آتا ہو، تو اسے عمر قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔
ایک اور نئے قانون کے تحت اسرائیل بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے دی جانے والی مالی امداد بھی معطل کر سکتا ہے، اگر بچے پر دہشتگردی سے متعلق الزام ہو۔
ماہرین نے اس قانون کو انسانی حقوق اور خاص طور پر فلسطینی بچوں کے ساتھ امتیازی سلوک قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں پہلے ہی اسرائیلی فوجی قوانین کے تحت 12 سالہ فلسطینی بچوں کو جیل بھیجا جا سکتا ہے، اور یہ نیا قانون حالات کو مزید خراب کر دے گا۔
اقوام متحدہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انسانی حقوق اور بچوں کے بین الاقوامی معیارات کا احترام کرے اور ایسے قوانین پر نظرِ ثانی کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ
پڑھیں:
لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
—فائل فوٹوپنجاب کے محکمۂ قانون نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی۔
ذرائع کے مطابق محکمۂ خزانہ نے 12جون کو بجٹ پیش کرنےکی تجویز دی ہے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا کہنا ہے کہ جمعے کو سرکاری چھٹی کی وجہ سے بجٹ پیش نہ کیا جائے اور نہ اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلایا جائے۔
پنجاب حکومت نے غیر قانونی اسلحہ کے خاتمے کیلئے نیا قانون تیار کر لیا ہے، جس کے تحت صوبے بھر میں کریک ڈاؤن تیز کرنے اور سخت سزائیں دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
محکمۂ قانون کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے معمول کے اجلاس میں زیرِ التوا بل بھی منظور ہو جائیں گے اور 3 بلز منظور کرانے ہیں اس لیے معمول کا اجلاس طلب کیا جائے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا یہ بھی کہنا ہے کہ بجٹ کے لیے مخصوص اجلاس میں بلز منظور نہیں ہوسکتے۔