Express News:
2026-07-24@06:42:25 GMT

پاکستان میں انسانی حقوق کا مقدمہ

اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT

جمہوریت کے نظام اور شفافیت کے تناظر کی بنیادی کنجی انسانی حقوق کی اہمیت،پاسداری اور اس کے اصولوں کے ساتھ خود کو جوڑنا ہوتا ہے اور یہ ہی عمل ریاستی نظام کی جمہوری ساکھ کو یقینی بناتا ہے۔ انسانی حقوق سے مراد وہ عالمی قوانین اور معاہدے ہوتے ہیں جن کو ہم نے دنیا کے عالمی نظام میں تسلیم کیا ہوتا ہے اور ہم ان قوانین پر عملدرآمد کے پابند اور جوابدہ ہوتے ہیں۔

پاکستان میں 1973کے آئین میں موجود جو پہلا باب ہے جس میں آرٹیکل 8 سے 28 ہیں وہ بنیادی انسانی حقوق کی ریاست اور شہریوں کے درمیان ضمانت بنتے ہیں اوراسی عمل کو ہم عمرانی معاہدہ بھی کہتے ہیں۔پاکستان میں کیونکہ جمہوری نظام کمزور اور اپنے ارتقائی عمل سے گزررہا ہے تو ایسی ریاستوں میں یقینی طور پر انسانی حقوق کا مقدمہ بھی کمزور ہوتا ہے۔

ڈاکٹرتوصیف احمد خان ملک کے معردف استاد،دانشور،لکھاری اور کالم نگار سمیت جمہوریت اور انسانی حقوق کے تناظر میں ایک بڑے نام کی حیثیت رکھتے ہیں اور کئی دہائیوں سے پاکستان میں جمہوریت، انسانی حقوق کی جدوجہد اور معاشرے کے محروم طبقات کے حق میں بڑی جرات کے ساتھ بات کرتے اور لکھتے بھی ہیں۔اسی طرح عرفان عزیز بھی معروف استاد ہیں اور شعبہ درس وتدریس کے علاوہ ملک میں جمہوری جدوجہد،انسانی حقوق اور اظہار آزادی کی بات کرنے والوں میں پیش پیش ہوتے ہیں۔

چونکہ دونوں لکھنے والے یہ افراد تحقیق کے بنیادی اصولوں سے گہری وابستگی رکھتے ہیں، اسی لیے ان دونوں مصنفین نے بڑی محنت اور جان فشانی سے اپنی ایک نئی مشترکہ تصنیف یا جامع کتاب ’’انسانی حقوق کا ارتقا اور تصور‘‘ لکھی ہے۔اس اہم انسانی حقوق کے موضوع پر ان دونو ں مصنفین کی یہ جامع کتاب انسانی حقوق سے جڑے تمام اہم موضوعات اور اہم ماخذوں کا احاطہ پیش کرتی ہے۔

ڈاکٹرتوصیف احمد خان پرانے نظریاتی و علمی وفکری ساتھی ہیں جو ڈکٹیٹرجنرل ضیا الحق مرحوم کے دور سے علمی و فکری میدان میں کام کررہے ہیں اور ان کے نظریات اور خیالات میں کوئی جھول نہیں ملتا اور اسی طرح عرفان عزیز کا شمار بھی ملک کے علمی و فکری طبقہ میں ہوتا ہے۔اس سے قبل یہ دونوں مصنفین نے ’’ پاکستان میں میڈیا کا بحران‘‘ پر بھی فکر انگیز کتاب لکھی جو ان کی وجہ شہرت بھی بنی۔

معروف صحافی ، دانشور اور انسانی حقوق کے ایک بڑے راہنما حسین نقی کے بقول اس کتاب میں انسانی حقوق کے جدید عالمی نظام کے ارتقا سے آگہی بھی حاصل ہوگی اور پڑھنے والے کو وہ دستاویزات بھی ملیں گی جو اس ارتقائی عمل کے دوران بین الاقوامی اداروں نے تیار کی ہیں جو فکر انگیز معلومات کا احاطہ کرتی ہے۔ان دستاویزات میں انسانی حقوق کا اعلامیہ بھی شامل ہے اور عورتوں ،بچوں، غلاموںاور مجموعی طور پر انسانوںکے معاشی ،سماجی،ثقافتی،شہری اور سیاسی حقوق سے متعلق اہم دستاویزات بھی اس کا حصہ ہیں۔

ان کے علاوہ یہ کتاب زمانہ حال میں ٹرانس جینڈر انسانوں اور جبری طور پرلاپتہ کیے گئے افراد کے حقوق کے بارے میں بھی بین الاقوامی سطح پر نافذ العمل دستاویزات بھی فراہم کرتی ہے۔بقول معروف مورخ ڈاکٹر مبارک علی کے موجودہ دور میں انسانی حقوق کا موضوع انتہائی اہمیت اختیار کرگیا ہے کیونکہ ایک جانب اس کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو دوسری طرف سماجی تحریکیںاس کے حق میں آواز اٹھاتی ہیں۔

اس کتاب کے مصنفین نے تحقیق کے بعدحقوق انسانی کی تاریخ کو مختلف ادوار میں تقسیم کرکے پیش کیا ہے اور ساتھ ہی اس تحریک کے بارے میںنظریاتی بحث ومباحثہ کو بھی شامل کیا ہے جو اچھا پہلو ہے اور لوگوں کو بہت سے پہلوؤں پر آگاہی دیتا ہے۔ پاکستان میںانسانی حقوق کمیشن کے سربراہ اسداقبال بٹ کے بقول زیر نظر کتاب مصنفین کا ایک اچھوتا خیال ہے۔شاید ہی کسی دانشوریا مصنف نے اردو زبان میں انسانی معاشرے کے ارتقاکو عملا انسانی حقوق کے تصور کے ساتھ جوڑ کر پیش کیا ہو یا اس انداز میں انسانی حقوق کی تاریخ کو قلم بند کرنے کی کوشش کی ہو۔اس پر یقیناً دونوں مصنفین مبارکباد کے مستحق بھی ہیں اور ان کے اس فکری اثاثے نے نئی بحث کو بھی آگے بڑھانے میں مدد کی ہے۔

اس کتاب کی خاص بات یہ بھی کہ دونوں مصنفین نے پاکستان کے تناظر میں انسانی حقوق کی جد وجہد، قانون سازی اور سیاسی جدوجہد کے عمل کو جوڑ کر ہمارے سامنے پیش کیا ہے۔انسانی حقوق کے معاملات میں جو خرابیاں یا کمزوریاں یا ریاست اور حکومت کی عدم ترجیحات کا نہ ہونے جیسے مسائل کو بڑی خوبصورتی سے پیش کیا ہے اور ریاست و حکومت کے ان اقدامات کی منظر کشی بھی کی ہے جہاں ریاستیں اور حکومت طاقت اور ہتھیار کی بنیاد پر انسانی حقوق کی پامالی کرتے ہیں یا لوگوں کی متبادل آوازوں کو طاقت کی بنیاد پر دبایا جاتا ہے۔

یہ ہی وجہ ہے کہ آج عالمی دنیا کی درجہ بندی میں انسانی حقوق کے تناظر میں ہمارا مقدمہ بہت کمزور ہے یا ہم اس میں بہت پیچھے کھڑے ہیں۔پاکستان میں انسانی حقوق کی بات کرنا کوئی آسان کام نہیں اور انسانی حقوق پر آواز اٹھانے والے کارکنوں کو ریاستی و حکومتی سطح پر جس بڑے دباؤ یا جبر کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ بھی اہم پہلو ہے۔پاکستان ان ملکوں میں شامل ہے جہاں ہم نے عالمی دنیا کو خوش کرنے کے لیے بے پناہ قوانین اور پالیسیاں بنالی ہیں مگر عملدرآمد کے کمزور نظام ،عدم شفافیت اور عدم ترجیحات کی وجہ سے ہمارے یہاں سیاسی اور سماجی سطح پر کمزور طبقات اور اقلیتوں کو بھی بے شمار مسائل اور تفریق یا عدم انصاف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

سیاسی جماعتوں کی اپنی بھی داخلی کمزوریوں کے باعث انسانی حقوق کی تحریکیں بھی کمزور ہوگئی ہیں اور ان تحریکوں کی سیاسی جماعتیں بڑی طاقت بننے کے لیے تیارنہیں یا ان کے دوہرے معیارات بھی مسائل پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔بالخصوص پاکستان میں ریاستی ،حکومتی ،نجی شعبہ یا سول سوسائٹی کی سطح پر جو ادارے انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے بنائے گئے ہیں وہ کہاں کھڑے ہیں یا ان کی اپنی شفافیت کیا ہے اس پر غورکرنے کی بھی ضرورت ہے کہ ہم اس عمل میں جو وسائل لگارہے ہیں ان کو کیسے جوابدہ بنایا جائے۔کیونکہ اتنی زیادہ پالیسیاں ،قوانین اور اداروں کی عملی طور پر موجودگی کے باوجود ہمارا انسانی حقوق کی پاسداری کا مقدمہ کیونکر کمزور ہے ، غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

یہ کتاب دس ابواب پر مشتمل ہے ان میں انسانی حقو ق کا تصوراور ارتقا،ریاست کا قیام،مختلف مذاہب میں انسانی حقوق کا تصور،فطری انسانی حقوق،انسانی حقوق کے جدید عالمی نظام کا آغاز و ارتقا،پاکستان میں انسانی حقوق،انسانی حقوق سے متعلق نئے مسائل،انسانی حقوق کا متبادل نقطہ نظراور انسانی حقوق اور ہمارا ماحول پر فکر انگیز بحث بھی شامل ہے اور نئے سوالات کو بھی نئی بحثوں کے لیے اٹھایا گیا ہے جس پر دونو ں مضنفین ڈاکٹر توصیف احمد خان اور ڈاکٹر عرفان عزیز مبارکباد کے مستحق ہیں۔عالمی دنیا سمیت پاکستان میں انسانی حقوق کی بحث کو سمجھنے اور آگاہی کے لیے یہ کتاب واقعی بہت اہم اور معلوماتی ہے اور اس کو ہمارے تعلیمی نصاب کا بھی کسی نہ کسی شکل میں حصہ ہونا چاہیے۔کیونکہ انسانی حقوق کی پاسداری کے بغیر نہ تو کوئی معاشرہ مہذہب ہوسکتا ہے اور نہ ہی معاشرے کی جمہوری ساکھ قائم ہوسکتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان میں انسانی حقوق میں انسانی حقوق کا میں انسانی حقوق کی اور انسانی حقوق انسانی حقوق کے دونوں مصنفین ہیں اور ان مصنفین نے کے تناظر پیش کیا ہوتا ہے کیا ہے کو بھی ہے اور کے لیے

پڑھیں:

پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملکی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی ترقی کے لئے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز اور 20 ملین ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے۔

اسلام آباد میں انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں صف اول کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے، یہ نمائش اور اس طرح کے اقدامات پاکستان کو 21ویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی میں صف اول کا ملک بنائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی بھی میزبانی کی، جس سے مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیےحکومتی نمائندوں، ٹیکنالوجی لیڈرز اور محققین کاروباری افراد کو مل بیٹھنے کا موقع ملا۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

ان کا کہنا تھا کہ آج انڈس راس ایکسپو سے اس وژن کو عملی شکل دینے کا موقع حاصل ہوا ہے کہ کس طرح جدت کو فعال سلوشنز میں تبدیل کریں، روبوٹکس اور ڈرونز کی جدت سے معیشت مضبوط سلامتی بہتر اور عوام کی زندگی آسان ہوگی، اس جہت نے اکیڈیمیا، انڈسٹری، اسٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میرے بچپن میں ٹیکنالوجی کی جدت بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کی آمد تھی اور خاندان کے تمام افراد’’اچے برج لاہور دے‘‘ جیسی پاکستان ٹیلی ویژن کی کلاسک نشریات کو مل کر دیکھتے تھے لیکن آج دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت آگے بڑھ گئی ہے اور ہم تاریخ کے ایک غیر معمولی دور میں ہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

ان کا کہنا تھا کہ زرعی پیداوار کے لیے پانی اور دیگر بنیادی عوامل کی ضرورت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے، آج ٹیکنالوجی کی جدید شکل ہمارے سامنے موجود ہے، آج مشینیں محسوس کر کے تیزی سے فیصلے اور ان پر عمل درآمد کرتی ہیں جو کبھی خواب لگتا تھا آج حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ فخریہ طور پر کہتا ہوں کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی اپنائی، سیمولیٹرز 100 فیصد پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں، ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے۔ 

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں مسلح افواج نے جدید آٹونومس سسٹمز اور سائبر سیکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا، معرکہ حق میں فیلڈ مارشل کی سربراہی میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی معاونت شان دار رہی اور ہماری مسلح افواج نے ملکی خود مختاری کے تحفظ کے لیے آہنی عزم کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ ملکی صلاحیتوں، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اور آپریشنل مہارت کا بھی بھرپور ثبوت دیا۔ان کا کہنا تھا کہ دفاعی شعبے میں شان دار کامیابیاں مادر وطن کے قومی دفاع کا لازمی جزو ہیں، اس سے ہمارے سیکیورٹی کا نظام مضبوط ہوگا، دفاع مزید ناقابل تسخیر ہو جائے گا اور اس سے ابھرتے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔

چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گا، دفاع میں آٹونومس صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا انقلاب چند جدید معیشتوں، بڑی کارپوریشنز اور بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ سب کے لیے مساوی ترقی ہونی چاہیے، کسانوں کی حالت بہتر ہو، چھوٹے کاروبار فروغ پائیں،کاروبار کرنے والی خواتین کو سہولیات ملیں اور کمزور طبقات کو فائدہ پہنچے، محفوظ اور شفاف آٹونومس سسٹمز کے لیے واضح قانون سازی اور اخلاقی فریم ورک بنانا چاہیے۔

پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا

مزید :

متعلقہ مضامین

  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم