اسرائیل جارحیت بند کرے اور عالمی قوانین کی پابندی کرے، محمد بن سلمان
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
ریاض: سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیرِ صدارت کابینہ کے اجلاس میں مسئلہ فلسطین پر سعودی عرب کی عالمی سطح پر بھرپور حمایت کا اعادہ کیا گیا ہے۔
سعودی میڈیا کے مطابق اجلاس میں فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی اور حمایت کا اعلان کیا گیا۔
اجلاس میں غزہ میں فوری جنگ بندی پر زور دیتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ انسانی امداد کی ترسیل کو یقینی بنائے اور اسرائیل کو جارحیت سے باز رکھنے کے لیے اقدامات کرے۔
سعودی کابینہ نے زور دیا کہ اسرائیل عالمی قوانین اور انسانی حقوق کے معیارات کی مکمل پاسداری کرے۔ اجلاس میں کہا گیا کہ فلسطینیوں کو ان کے جائز حقوق دلانے کے لیے عالمی سطح پر آواز بلند کی جاتی رہے گی۔
واضح رہے کہ سعودی عرب نے حالیہ دنوں میں کئی عالمی فورمز پر فلسطینی کاز کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کی ہیں اور غزہ میں جاری انسانی بحران پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اجلاس میں
پڑھیں:
شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر ہونے والی یہ ملاقاتیں خطے میں سفارتی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ایران نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں یکطرفہ پالیسیوں، بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی اور طاقت کے غیر قانونی استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کو موجودہ عالمی حالات میں ناگزیر قرار دیا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کرغزستان کے سیاحتی شہر چولپون آتا میں جاری اجلاس کے موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران شنگھائی تعاون تنظیم اور اس جیسے دیگر کثیرالجہتی فورمز کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی یکطرفہ پالیسیاں، ریاستوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کی خلاف ورزیاں اور طاقت کا غیر قانونی استعمال بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی قانونی نظام کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔ اگرچہ اسماعیل بقائی نے کسی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم انہوں نے ماضی میں بھی اسی نوعیت کے بیانات میں امریکا کی خارجہ پالیسی اور اس کے اقدامات پر تنقید کی ہے۔ ایران 2023ء میں شنگھائی تعاون تنظیم کا باقاعدہ رکن بنا تھا۔ یہ تنظیم چین اور روس کی قیادت میں قائم ایک اہم یوریشیائی سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی فورم ہے، جس میں پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک شامل ہیں۔ وزرائے خارجہ کا یہ اجلاس تنظیم کے آئندہ سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ سربراہ اجلاس میں علاقائی سلامتی، تجارتی روابط، اقتصادی تعاون اور رکن ممالک کے درمیان شراکت داری کے فروغ جیسے اہم موضوعات پر غور کیا جائے گا۔