علامہ علی حسنین حسینی کی خضدار اسکول بس دھماکے کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
اپنے جاری کردہ بیان میں علامہ علی حسنین حسینی نے خضدار میں آرمی پبلک اسکول کی بس پر خودکش حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسکول کے طلباء کو دہشتگردی کا نشانہ بنانا انتہائی افسوسناک ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین بلوچستان کے صوبائی رہنماء و امام جمعہ علامہ علی حسنین حسینی نے کہا ہے کہ معصوم بچوں کے قتل عام سے شدت پسند عناصر کو کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ پاکستانی قوم بلوچستان میں بدامنی پھیلانے اور معصوموں کو قتل کرنے والے عناصر کے خلاف ہیں۔ اپنے جاری کردہ بیان میں علامہ علی حسنین حسینی نے خضدار میں آرمی پبلک اسکول کی بس پر خودکش حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسکول کے طلباء کو دہشتگردی کا نشانہ بنانا انتہائی افسوس ناک ہے۔ حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے بعد ظاہراً اس گناؤنے فعل میں بھارت کا ہاتھ ہے۔ پاکستانی قوم کو شعور کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کی سازشوں کو ناکام بنانا ہوگا۔ ایم ڈبلیو ایم رہنماء نے واقعہ میں شہید ہونے والوں کے اہلخانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دکھ درد میں برابر کے شریک ہیں۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ جلد از جلد زخمیوں کو صحت اور متاثرین کو صبر عطا فرمائے۔ علامہ علی حسنین نے کہا کہ بلوچستان کی سکیورٹی صورتحال اور شدت پسندی کے واقعات ہمارے اداروں پر بھی سوالات چھوڑتے ہیں۔ ہمارے اداروں کے پاس تمام تر سہولیات ہونے کے باوجود ان واقعات کی روک تھام میں ناکامی باعث افسوس ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علامہ علی حسنین حسینی کرتے ہوئے کہا کہ
پڑھیں:
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
فائل فوٹو۔بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 17دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے یہ آپریشنز 24 مئی کے ٹرین واقعہ کے بعد کیے، جو مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے اضلاع میں کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی ہلاکت سے ان علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو بہت زیادہ نقصان ہوا، ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بڑی مقدار میں بارودی مواد اور آئی ای ڈیز برآمد کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ ان علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی ملک گیر انسدادِ دہشت گردی مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی اور ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔