ایران اور امریکا کے درمیان خفیہ ایٹمی مذاکرات، عمان میں اہم پیش رفت
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
مسقط : ایران کے صدر مسعود پزشکیان دو روزہ سرکاری دورے پر عمان پہنچ گئے، جہاں وہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری ایٹمی مذاکرات میں پیش رفت کے لیے عمان کی ثالثی پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
روانگی سے قبل اپنے خطاب میں صدر پہزشکیان نے کہا کہ ان کا مقصد خطے میں امن اور استحکام کو فروغ دینا ہے۔ دورے کے دوران انہوں نے عمان کے سلطان ہیثم بن طارق سے ملاقات کی اور ایران کی جانب سے امریکا سے بات چیت میں عمان کی مدد کو سراہا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ دورہ براہِ راست جوہری مذاکرات سے متعلق ہے۔ خیال رہے کہ اپریل 2025 سے اب تک عمان کی میزبانی میں ایران اور امریکا کے درمیان پانچ خفیہ ملاقاتیں ہو چکی ہیں، حالانکہ دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔
جمعے کو روم میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے نتائج تو سامنے نہیں آئے، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے "بہت اچھی بات چیت" قرار دیا اور کہا کہ اگلے دو دن میں بڑی خبر آ سکتی ہے۔
ایران پر ایٹمی ہتھیار بنانے کا الزام ہے جسے تہران سختی سے مسترد کرتا ہے، جبکہ امریکا ان پروگرامز کو روکنے اور پابندیوں میں نرمی کے ممکنہ معاہدے کے لیے مذاکرات کر رہا ہے۔
صدر پہزشکیان کے دورے سے قبل ایران کے مرکزی بینک کے گورنر بھی عمان پہنچے، جہاں انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان بینکاری اور تجارتی تعاون پر بات چیت کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے درمیان
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔