پشاور میں تیز ترین آندھی، طوفانی بارش نے تباہی مچا دی
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
حیات آباد میں گھروں پر لگے سولر پینلز اکھڑ گئے، حیات آباد اسپورٹس کمپلیکس کی فائبر شیٹ کی لگی چھت تباہ ہوگئی اور سائن بورڈ گرنے سے دو ٹیکسی گاڑیاں بھی ملیا میٹ ہوگئیں۔ اسلام ٹائمز۔ طوفانی بارش اور آندھی نے شہر میں تباہی پھیر دی جہاں درخت گرنے، سائن بورڈ گرنے اور چھت گرنے سے 3 افراد ملبے تلے دب گئے تاہم امدادی کارکنوں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے انہیں بحفاظت نکال لیا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ تفصیلات کے مطابق پشاور کے علاقے حیات آباد میں گھروں پر لگے سولر پینلز اکھڑ گئے، حیات آباد اسپورٹس کمپلیکس کی فائبر شیٹ کی لگی چھت تباہ ہوگئی اور سائن بورڈ گرنے سے دو ٹیکسی گاڑیاں بھی ملیا میٹ ہوگئیں۔ پشاور میں سواریوں کو لانے والی مسافر ٹیکسی کاریں سڑک پر کھڑی تھیں کہ طوفانی بارش سے پہلے آندھی سے سائن بورڈ گاڑیوں پر آگرا، انڈسٹریل اسٹیٹ میں شدید بارش اور طوفان سے بجلی کے کھمبے اکھڑ گئے اور مین ٹراسمیشن لائنیں بھی متاثر ہوگئیں اور اس کے نتیجے میں حیات آباد اور ملحقہ علاقوں میں بجلی کا نظام درہم برہم ہوگیا۔
پشاور رنگ روڈ پر حیات آباد کے قریب نالوں میں پانی بھرنے سے سیلابی صورت حال پیدا ہوئی، ڈبگری میں لیڈی گرفتھ اسکول کے پاس سڑک تالاب کا منظر پیش کرتی رہی جس سے ٹریفک کی روانی میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ لیڈی ریڈنگ اسپتال کے ڈاکٹر ہاسٹل گیٹ کے سامنے بھی پانی کھڑا ہونے سے پل پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی رہیں۔ ادھر متنی میں ڈھابے ہوٹل کی چھت گر نے سے تین افراد ملبے تلے دب گئے جنہیں ریسکیو ٹیموں نے امدادی کاروائیوں کے بعد نکالا، شہر میں چارسدہ روڈ، نمک منڈی، کوہاٹ روڈ پر بھی درخت گر گئے تاہم جانی نقصان نہیں ہوا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حیات آباد
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈ سے تباہی، 28 افراد جاں بحق، 47 گھر متاثر
پشاور:خیبر پختونخوا میں 19 جولائی سے اب تک ہونے والی تیز بارشوں اور فلش فلڈ سے گھروں کی چھتیں و دیواریں گرنے اور سیلابی ریلے میں بہہ جانے کے باعث 28 افراد جاں بحق اور 29 افراد زخمی ہوگئے۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق مجموعی طور پر جاں بحق افراد میں 10 مرد، 15 بچے اور 3 خواتین جبکہ زخمیوں میں 13 مرد، 9 خواتین اور 7 بچے شامل ہیں۔ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 47 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 37 گھروں کو جزوی اور 10 گھر مکمل منہدم ہوئے۔
حادثات صوبے کے مختلف اضلاع پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان، بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال اپر و لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ، ہری پور، کوہستان اپر، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں ہیں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو متاثرین کو جلد امدادی سامان فراہم کرنے کی ہدایت کر دی گئی۔
پی ڈی ایم اے کی جانب سے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ عوام سےاپیل کی جاتی ہے کہ بلا وجہ سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں اور حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق پی ڈی ایم اے کا ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے۔ عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع، موسمی صورتحال سے آگاہی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔