نصاب تعلیم کروڑوں طلباء و طالبات کے مستقبل کا فیصلہ ہے، علامہ مقصود ڈومکی
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
نصاب تعلیم کانفرنس کے سلسلے میں آئی ایس او کے رہنماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی نصاب تعلیم کونسل کیجانب سے یہ کانفرنس قومی وحدت، تعلیمی ہم آہنگی اور مذہبی رواداری کے فروغ کیلیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری نشر و اشاعت اور نصاب تعلیم کونسل کے کنوینیئر علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ متنازع نصاب تعلیم قبول نہیں ہے۔ نصاب تعلیم کروڑوں طلباء و طالبات کے مستقبل کا فیصلہ ہے۔ ایسے نصاب کا مطالبہ کرتے ہیں جو تمام مکاتب فکر کیلئے قابل قبول ہوں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور میں منعقد ہونے والی نصاب تعلیم کانفرنس کے سلسلے میں امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی چیئرمین ڈاکٹر سید حضور مہدی حسینی اور ناظم طلبہ امور پروفیسر سجاد حیدر رضوی سے رابطہ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی نصاب تعلیم کونسل کے زیر اہتمام 18 جون 2025 کو لاہور میں منعقد ہونے والی صوبائی نصاب تعلیم کانفرنس کے سلسلے میں دعوتی عمل جاری ہے۔ اس حوالے سے کونسل کے سیکرٹری غلام حسین علوی نے امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی دفتر کا دورہ کیا اور مرکزی صدر سید فخر عباس نقوی کو کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کانفرنس پاکستان کے تعلیمی مستقبل کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ثابت ہو گی۔ اسی سلسلے میں علی رضا اعوان ایڈوکیٹ، اسلم ادیب بھنڈر اور ذاکر شفقت کو بھی دعوت نامے پیش کیے گئے ہیں۔ صوبائی نصاب تعلیم کانفرنس میں پنجاب بھر سے ممتاز ماہرین تعلیم، علماء کرام، وکلاء، ذاکرین، بانیان مجالس اور مختلف طبقاتِ فکر کی اہم شخصیات کی شرکت متوقع ہے۔
مرکزی سطح پر دعوتی رابطوں کے ضمن میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری نشر و اشاعت اور نصاب تعلیم کونسل کے کنوینیئر علامہ مقصود علی ڈومکی نے امامیہ آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی چیئرمین ڈاکٹر سید حضور مہدی حسینی اور ناظم طلبہ امور پروفیسر سجاد حیدر رضوی سے رابطہ کرکے انہیں بھی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا نصاب تعلیم کروڑوں طلباء و طالبات کے مستقبل کا فیصلہ ہے۔ فرقہ وارانہ اور تکفیری نصاب کسی طور پر قبول نہیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ نصاب تعلیم کو تمام مسالک اور مکاتب فکر کے لیے قابل قبول بنایا جائے اور 1975 کے متفقہ قومی نصاب کی طرز پر اسے ازسرنو مرتب کیا جائے۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی نصاب تعلیم کونسل کی جانب سے یہ کانفرنس قومی وحدت، تعلیمی ہم آہنگی اور مذہبی رواداری کے فروغ کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مجلس وحدت مسلمین پاکستان نصاب تعلیم کانفرنس پاکستان کے مرکزی نصاب تعلیم کونسل نصاب تعلیم کو علامہ مقصود سلسلے میں کونسل کے ڈومکی نے نے کہا
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔