مورو میں حل شدہ مسئلے پر دوبارہ لوگوں کو جمع کیا گیا، مراد علی شاہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
وزیراعلیٰ سندھ کا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سڑک پر لوگ جمع ہوں گے تو پولیس کچھ نہ کچھ ایکشن لے گی، احتجاج کے مقام سے ایک کلومیٹر دور جا کر گھر جلادیا گیا، آگ لگانے والے کون تھے۔؟ سازش بڑی صاف نظر آ رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ مورو واقعہ کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، حل شدہ مسئلے پر دوبارہ لوگوں کو جمع کیا گیا۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سڑک پر لوگ جمع ہوں گے تو پولیس کچھ نہ کچھ ایکشن لے گی، احتجاج کے مقام سے ایک کلومیٹر دور جا کر گھر جلادیا گیا، آگ لگانے والے کون تھے۔؟ سازش بڑی صاف نظر آ رہی ہے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ سب کو پتہ ہے یہ لوگ کہاں سے آرہے ہیں، ایک مردہ مسئلہ کو دوبارہ اٹھا کر یہ کس کی لڑائی لڑنا چاہتے ہیں۔؟ یہ لوگ کسی کے ہاتھوں استعمال ہو رہے ہیں، این آئی سی وی ڈی ایک اچھا ادارہ ہے، اس ہسپتال میں مزید بہتری کیلئے بھی کوششیں کی جائیں گی۔ وزیراعلیٰ سندھ کا مزید کہنا تھا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی کہا یہ نیٹ ورک پورے صوبے کیلئے بنائیں، مقامی نمائندوں نے بھی اس ہسپتال کیلئے بہت کوششیں کیں، آنے والا بجٹ مشکل ہوگا، ترقیاتی منصوبوں کا بہت خرچہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مراد علی شاہ
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔