بھارتی ایئر چیف نے دفاعی معاہدوں میں کرپشن کا بھانڈا پھوڑ دیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
نئی دہلی : بھارتی فضائیہ کے سربراہ اے پی سنگھ نے بھارتی دفاعی معاہدوں میں کرپشن کا بھانڈا پھوڑتے ہوئے کہا ہے کہ دفاعی معاہدے ہوتے ہیں مگر ہتھیار نہیں آتے۔
ایئر چیف اے پی سنگھ نے انکشاف کیا کہ ٹائم لائن کا جنازہ نکل چکا ہے، کوئی بھی دفاعی پروجیکٹ کبھی بھی وقت پر مکمل نہیں ہوا، ہم جانتے ہیں کچھ سسٹمز کبھی آئیں گے ہی نہیں، پھر بھی معاہدے کرتے ہیں۔
انہوں نے دفاعی خریداری کا حیران کن فارمولا بتاتے ہوئے کہا کہ بعد میں دیکھیں گے کیا کرنا ہے، ہر منصوبہ تاخیر کا شکار ہے اور ایسا کوئی پروجیکٹ نہیں جو آج تک وقت پر مکمل ہوا ہو، دفاعی معاہدے تو ہوتے ہیں، مگر ہتھیار نہیں آتے۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ آپریشن سندور نے دفاعی قیادت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے، آپریشن سندور نے واضح کر دیا ہے کہ جنگ کی نوعیت اور حکمت عملی بدل رہی ہے۔
ایئر چیف اے پی سنگھ نے سوال کیا کہ جو وعدے پورے نہیں ہونے، وہ کیوں کرتے ہیں؟
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔