کراچی: مڈل کلاس لوگوں کو اغوا کرنیوالے 4 مزدور گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 30 مئی2025ء) شارع نور جہاں پولیس نے شارٹ ٹرم کڈنیپنگ میں ملوث 4 پیشہ ور مزدور ملزمان کو گرفتار کرلیا۔تفصیلات کے مطابق کراچی میں شارع نورجہاں پولیس سے مقابلے کے بعد گرفتار اغوا کار ویلڈر، کارپینٹر، ماربل پالش والا اور نائی نکلے، ملزمان صرف متوسط طبقے کے لوگوں کو ہی اغوا کرتے تھے۔ایس ایس پی سینٹرل ذیشان صدیقی نے بتایا کہ گرفتار ملزمان میں نائی، ویلڈر، کارپینٹر اور ماربل پالش والا شامل ہے، چاروں مزدوروں نے مل کر گینگ بنایا تھا اور ملزمان قانون نافذ کرنے والے ادارے کا اہلکار بن کر وارداتیں کرتے تھے۔
حکام نے بتایا کہ ملزمان صرف متوسط طبقے کو ہی نشانہ بناتے تھے، ملزمان گنے کے جوس، شربت والے، ریڑھی بان یا کسی کو بھی اہلکار بن کر بلاتے تھے اور اپنی گاڑی میں بٹھا کر مختلف علاقوں میں گھماتے پھراتے تھے، ملزمان شہری کے اہلخانہ سے 20 ہزار سے 1 لاکھ تک تاوان منگواتے اور چھوڑ دیتے تھے۔(جاری ہے)
ایس ایس پی سینٹرل کا کہنا تھا کہ ایک ملزم پی کیو آر کا سابقہ اہلکار تھا، ملزم اپنے اور دیگر ساتھیوں کے لیے پولیس کی یونیفارم ارینج کرتا تھا، ایک کیس میں ملزمان نے تاوان لے کر آنے والے شخص سے بھی لوٹ مار کی تھی، ملزمان نے اغوا برائے تاوان کیلئے کرائے کی گاڑی لے کر رکھی ہوئی تھی۔
ایس ایس پی کا کہنا ہے کہ ملزمان مڈل کلاس طبقے کو اس لیے نشانہ بناتے تاکہ ان کی شکایت نا ہوسکے، ملزمان میں اشعر، کامران، عرفان اور دانیال شامل ہیں، ملزمان کی گرفتاری کی خبر سن کر کئی متاثرین تھانے پہنچ گئے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔